معجم صغير للطبراني
كتاب الجنائز و ذكر الموت— نماز جنازہ اور موت کے ذکر کا بیان
باب: موت کے وقت کلمہ پڑھنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 340
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى النُّورِيُّ ، بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ يَحْيَى الدَّيْبُلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَحْيَى الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ قَالَ عِنْدَ مَوْتِهِ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ، لَمْ تَطْعَمْهُ النَّارُ أَبَدًا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَحْيَى الْحَضْرَمِيِّ الْكُوفِيِّ ، إِلا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَىترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوسعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مرنے کے وقت ﴿لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ﴾ پڑھ لے گا اس کو آگ نہیں کھا سکے گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3430 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´آدمی جب بیمار ہو تو کیا دعا پڑھے؟`
ابومسلم خولانی کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما نے گواہی دی کہ ان دونوں کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو «لا إله إلا الله والله أكبر» ” اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے “، کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے: (ہاں) میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب: «لا إله إلا الله وحده» ” اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے “، کہتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ” اللہ کہتا ہے (ہاں) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3430]
ابومسلم خولانی کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما نے گواہی دی کہ ان دونوں کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو «لا إله إلا الله والله أكبر» ” اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے “، کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے: (ہاں) میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب: «لا إله إلا الله وحده» ” اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے “، کہتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ” اللہ کہتا ہے (ہاں) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3430]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔
2؎:
اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔
3؎:
اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک وساجھی نہیں۔
4؎:
اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے۔
5؎:
اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اور گناہ سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی طاقت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے۔
وضاحت:
1؎:
اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔
2؎:
اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔
3؎:
اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک وساجھی نہیں۔
4؎:
اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے۔
5؎:
اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اور گناہ سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی طاقت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3430 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3794 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´لا الہٰ الا اللہ کی فضیلت۔`
اغر ابومسلم سے روایت ہے اور انہوں نے شہادت دی کہ ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما دونوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب بندہ «لا إله إلا الله والله أكبر» یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے، کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب بندہ «لا إله إلا الله وحده» یعنی صرف تنہا اللہ ہی عبادت کے لائق ہے، کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، میں ہی اکیلا معبود برحق ہوں، ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3794]
اغر ابومسلم سے روایت ہے اور انہوں نے شہادت دی کہ ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما دونوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب بندہ «لا إله إلا الله والله أكبر» یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے، کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب بندہ «لا إله إلا الله وحده» یعنی صرف تنہا اللہ ہی عبادت کے لائق ہے، کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، میں ہی اکیلا معبود برحق ہوں، ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3794]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرارد یا ہے اور مزید لکھا ہے کہ مذکورہ روایت موقوفاً صحیح ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے مرفوعاً صحیح قرار دیا ہے اور انہی کی رائے اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
واللہ أعلم۔
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: (الصحيحة: 3/ 378، 379 رقم: 1390)
(2) (لااله الاالله)
سب سے بڑی حقیقت ہے اور مذکورہ بالا اذکار اس حقیقت کا اعتراف ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ بھی ان کی تصدیق فرماتا ہے۔
(3)
اللہ کے تصدیق فرمانے سے ان اذکار کی عظمت ظاہر ہوتی ہے، اس لیے ان کا ثواب بھی بہت زیادہ ہوگا۔
(4)
اگر حادثاتی موت کی صورت میں زبان سے (لا اله الله)
کہنے کا موقع نہ ملا تو دل کا یقین و اعتقاد مغفرت کا باعث ہوگا، ان شاء اللہ۔
کیونکہ احادیث میں حادثاتی موت کی مختلف صورتوں کو شہادت کی موت قرار دیا گیا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرارد یا ہے اور مزید لکھا ہے کہ مذکورہ روایت موقوفاً صحیح ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے مرفوعاً صحیح قرار دیا ہے اور انہی کی رائے اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
واللہ أعلم۔
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: (الصحيحة: 3/ 378، 379 رقم: 1390)
(2) (لااله الاالله)
سب سے بڑی حقیقت ہے اور مذکورہ بالا اذکار اس حقیقت کا اعتراف ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ بھی ان کی تصدیق فرماتا ہے۔
(3)
اللہ کے تصدیق فرمانے سے ان اذکار کی عظمت ظاہر ہوتی ہے، اس لیے ان کا ثواب بھی بہت زیادہ ہوگا۔
(4)
اگر حادثاتی موت کی صورت میں زبان سے (لا اله الله)
کہنے کا موقع نہ ملا تو دل کا یقین و اعتقاد مغفرت کا باعث ہوگا، ان شاء اللہ۔
کیونکہ احادیث میں حادثاتی موت کی مختلف صورتوں کو شہادت کی موت قرار دیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3794 سے ماخوذ ہے۔