معجم صغير للطبراني
كتاب الصلوٰة— نماز کا بیان
باب: نمازِ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک جائے نماز پر اذکار کا بیان
حدیث نمبر: 335
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ السِّمْسَارُ الْحِمْصِيُّ الْحَافِظُ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ الْبَرَّادُ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الأَبْرَشُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ جَلَسَ يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، إِلا عَدِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَلا عَنْهُ إِلا الزُّبَيْدِيُّ ، تَفَرَّدَ بِهِ عِمْرَانُ ، عَنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے تو سورج طلوع ہونے تک وہاں بیٹھے رہتے، اللہ کا ذکر کرتے رہتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4850 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´چارزانو (آلتی پالتی) ہو کر بیٹھنے کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ لیتے تو چارزانو (آلتی پالتی) ہو کر بیٹھتے یہاں تک کہ سورج خوب اچھی طرح نکل آتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4850]
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ لیتے تو چارزانو (آلتی پالتی) ہو کر بیٹھتے یہاں تک کہ سورج خوب اچھی طرح نکل آتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4850]
فوائد ومسائل:
1) عام حالت میں آلتی پالتی کی حالت میں بیٹھنا جائز ہے، حتی کہ مریض اس حالت میں بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔
مگر کھانے کے لیئے بعض علما ء نے اس طرح بیٹھنے کو مکروہ جانا ہےاور اس کی وجہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ اس طرح بیٹھنا ٹیک لگانے کے ضمن میں آ سکتا ہے اور ٹیک لگا کر کھانا ممنوع ہے۔
2) مستحب ہے کی انسان نمازِ فجر کے بعد طلو ع آفتاب تک مسجد میں بیٹھے اور ذکر و تسبیح اور قراءت و قرآن وغیرہ میں مشغول رہے۔
1) عام حالت میں آلتی پالتی کی حالت میں بیٹھنا جائز ہے، حتی کہ مریض اس حالت میں بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔
مگر کھانے کے لیئے بعض علما ء نے اس طرح بیٹھنے کو مکروہ جانا ہےاور اس کی وجہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ اس طرح بیٹھنا ٹیک لگانے کے ضمن میں آ سکتا ہے اور ٹیک لگا کر کھانا ممنوع ہے۔
2) مستحب ہے کی انسان نمازِ فجر کے بعد طلو ع آفتاب تک مسجد میں بیٹھے اور ذکر و تسبیح اور قراءت و قرآن وغیرہ میں مشغول رہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4850 سے ماخوذ ہے۔