حدیث نمبر: 320
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ، وَحَضَرَ الْعَشَاءُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُبَارَكٍ ، إِلا مُؤَمَّلٌ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی ہو جائے اور رات کا کھانا بھی تیار ہو تو پہلے کھانا کھا لو۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصلوٰة / حدیث: 320
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 673 | صحيح مسلم: 559 | سنن ترمذي: 354 | سنن ابي داود: 3757 | سنن ابن ماجه: 934 | معجم صغير للطبراني: 312

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 673 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
673. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کا کھانا سامنے رکھ دیا جائے اور اس دوران میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو پہلے کھانا تناول کر لے، جلدی نہ کرے بلکہ کھانے سے فراغت حاصل کرے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی عادت تھی کہ اگر ان کے لیے کھانا رکھ دیا جات اور اس دوران میں اقامت ہو جاتی تو جب تک کھانے سے فارغ نہ ہو جاتے، نماز میں شریک نہ ہوا کرتے تھے، حالانکہ وہ امام کی قراءت بھی سن رہے ہوتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:673]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا مذکورہ عمل ان کا اپنا اختیار کردہ ہے۔
ہمارے نزدیک بہتر ہے کہ اگر انسان اس قدر کھا چکا ہو کہ اطمینانِ قلب کے ساتھ نماز پڑھ سکے تو نماز کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
مکمل طور پر کھانے سے فراغت ضروری نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا عمل مبارک بھی ہمارے اس موقف کا مؤید ہے۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ شانے کا گوشت کھا رہے تھے کہ آپ کو نماز کے لیے بلایا گیا، آپ نے گوشت وہیں رکھا اور نماز کےلیے کھڑے ہوگئے۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 675) (2)
امام نووی ؒ فرماتے ہیں کہ ان احادیث میں کھانے کی موجودگی میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان ہے، کیونکہ ایسی صورت میں خشوع خضوع ختم ہوجاتا ہے جو نماز کی اصل روح ہے، چنانچہ کھانے کہ علاوہ بھی جو چیز خضوع کے منافی ہوگی، اس کا یہی حکم ہوگا لیکن یہ اس وقت ہے جب کافی وقت موجود ہو۔
اگر وقت کم ہوتو ہر صورت میں وقت کی حرمت کا خیال رکھتے ہوئے نماز پڑھ لینی چاہیے، ایسے حالات میں تاخیر جائز نہیں۔
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں کہ جب کسی معاملے میں دو خرابیاں جمع ہوجائیں تو ہلکی خرابی کو اپنا لیا جائے۔
وقت کا نکل جانا خشوع کے چھوٹ جانے سے زیادہ خطرناک ہے۔
غالباً اسی وجہ سے میدان جنگ میں بھی نماز خوف بروقت پڑھنے کا حکم ہے باوجودیکہ اس وقت کمال خشوع ناممکن ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 209/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 673 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3757 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جب عشاء اور شام کا کھانا دونوں تیار ہوں تو کیا کرے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے لیے رات کا کھانا چن دیا جائے اور نماز کے لیے اقامت بھی کہہ دی جائے تو (نماز کے لیے) نہ کھڑا ہو یہاں تک کہ (کھانے سے) فارغ ہو لے۔‏‏‏‏ مسدد نے اتنا اضافہ کیا: جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا کھانا چن دیا جاتا یا ان کا کھانا موجود ہوتا تو اس وقت تک نماز کے لیے نہیں کھڑے ہوتے جب تک کہ کھانے سے فارغ نہ ہو لیتے اگرچہ اقامت اور امام کی قرآت کی آواز کان میں آ رہی ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3757]
فوائد ومسائل:
فائدہ: نمازایسی عبادت ہے جس میں رب ذوالجلال سے مناجات ہوتی ہے۔
تو انسان کو اپنے فطری عوارض سے فارغ ہو کر پوری یکسوئی سے نماز اد ا کرنی چاہیے۔
کھانے پر پہنچنے سے پہلے نماز کا بوجھ اتارنے کی کوشش قطعاً مناسب نہیں۔
اسی طرح پیشاب پاخانے کے تقاضے ہیں۔
ضروری ہے کہ انسان پہلے ان امور سے فارغ ہولے، ایسا نہ ہو کہ دھیان کھانے وغیرہ کی طرف لگا ہوا ور نماز میں یکسوئی حاصل نہ ہو پائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3757 سے ماخوذ ہے۔