حدیث نمبر: 307
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُصَيْنِ بْنِ خَالِدٍ الأُوَيْسِيُّ ، بِطَرَسُوسَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ عِمْرَانَ الْخَيَّاطِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "الْوِتْرُ عَلَى أَهْلِ الْقُرْآنِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، إِلا أَزْهَرُ ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي صَفْوَانَترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر قرآن والوں پر لازم ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1170 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´وتر کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " بیشک اللہ طاق (یکتا و بے نظیر) ہے، طاق کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو، ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1170]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " بیشک اللہ طاق (یکتا و بے نظیر) ہے، طاق کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو، ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1170]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
آخری جملہ غالباً صحابی کا ارشاد ہے۔
جب اعرابی نے ارشا د نبوی ﷺ کا مطلب دریافت کرنا چاہا تو صحابی نے کہا کہ نماز تہجد اور اس طرح کے دوسرے مشکل اعمال پر تمہارا عمل پیرا ہونا مشکل ہے۔
اس لئے تم یہ مسائل دریافت نہ کرو۔
یہ بھی ممکن ہے کہ جب اعرابی نے یہ سوال کیا۔
تو یہ جواب کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بجائے خود رسول اللہﷺ نے دیا ہو کہ تم لوگ صرف فرائض پر عمل پیرا رہو تو وہ تم لوگوں کی نجات کےلئے کافی ہے۔
نفلی نمازیں اور تہجد وغیرہ تو وہ لوگ ادا کرسکتے ہیں۔
جونیکیوں کا بہت زیادہ شوق رکھتے ہوں۔
واللہ أعلم۔
(2)
قرآن والوں سےاگر حافظ قرآن مراد ہوں۔
تو وتر سے نمازتہجد مراد ہوگی۔
اور اعرابی لوگ قرآن کے حافظ نہیں ہوتے تھے۔
اس لئے کہا گیا کہ اس مسئلے کا تعلق تم جیسے عوام سے نہیں۔
(3)
یہ روایت بعض حضرات کے نزدیک صحیح ہے۔
تفصیل کےلئے گزشتہ حدیث کا فائدہ نمبر 1 ملاحظہ ہو۔
فوائد ومسائل: (1)
آخری جملہ غالباً صحابی کا ارشاد ہے۔
جب اعرابی نے ارشا د نبوی ﷺ کا مطلب دریافت کرنا چاہا تو صحابی نے کہا کہ نماز تہجد اور اس طرح کے دوسرے مشکل اعمال پر تمہارا عمل پیرا ہونا مشکل ہے۔
اس لئے تم یہ مسائل دریافت نہ کرو۔
یہ بھی ممکن ہے کہ جب اعرابی نے یہ سوال کیا۔
تو یہ جواب کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بجائے خود رسول اللہﷺ نے دیا ہو کہ تم لوگ صرف فرائض پر عمل پیرا رہو تو وہ تم لوگوں کی نجات کےلئے کافی ہے۔
نفلی نمازیں اور تہجد وغیرہ تو وہ لوگ ادا کرسکتے ہیں۔
جونیکیوں کا بہت زیادہ شوق رکھتے ہوں۔
واللہ أعلم۔
(2)
قرآن والوں سےاگر حافظ قرآن مراد ہوں۔
تو وتر سے نمازتہجد مراد ہوگی۔
اور اعرابی لوگ قرآن کے حافظ نہیں ہوتے تھے۔
اس لئے کہا گیا کہ اس مسئلے کا تعلق تم جیسے عوام سے نہیں۔
(3)
یہ روایت بعض حضرات کے نزدیک صحیح ہے۔
تفصیل کےلئے گزشتہ حدیث کا فائدہ نمبر 1 ملاحظہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1170 سے ماخوذ ہے۔