حدیث نمبر: 305
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيُّ بِالرَّقَّةِ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو عُمَرُ بْنُ نَوْفَلِ بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِئِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : "مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَرَأَ بِهِ مِنَ الْهَاجِرَةِ إِلَى الظُّهْرِ فَكَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، إِلا أَبُو قَتَادَةَ الْحَرَّانِيُّ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ: ”جو شخص اپنے وظیفے سے رات کو سو جائے پھر اس کو دوپہر کے وقت ظہر تک پڑھ لے تو گویا اس نے رات کو ہی پڑھ لیا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصلوٰة / حدیث: 305
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1791 | صحيح مسلم: 747 | سنن ترمذي: 581 | سنن ابي داود: 1313 | سنن ابن ماجه: 1343

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1791 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جو شخص رات کو سو جائے اور اپنا وظیفہ نہ پڑھ سکے تو وہ کب اس کی قضاء کرے؟`
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی رات کو اپنے وظیفہ سے، یا اس کی کسی چیز سے سو جائے، پھر وہ اسے فجر سے لے کر ظہر تک کے درمیان پڑھ لے، تو اس کے لیے یہی لکھا جائے گا کہ گویا اس نے اسے رات ہی میں پڑھا ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1791]
1791۔ اردو حاشیہ: البتہ دو چیزیں ملحوظ رکھے۔ وقت نفل نماز کے لیے مکروہ نہ ہو اور طاق کی بجائے ایک رکعت زائد کر کے جفت پڑھے۔ یہ تب ہے جب رات کے نوافل کی ادائیگی کرنی ہو، لیکن اگر صرف وتر کی ادائیگی ہی مقصود ہے تو طاق وتر پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1791 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 747 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو اپنے وظیفہ (معمول) سے سویا رہا یا اس کے کچھ حصہ سے سو گیا، اور اس نے اسے نماز فجر اور نمازظہر کے درمیان پڑھ لیا تو اسے اس کے لیے ایسے ہی رکھا جائے گا گویا کہ اس نے اسے رات ہی کو پڑھا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1745]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اگر انسان کا رات کے کسی حصہ میں کوئی ورد یا وظیفہ اور عمل ہو اور وہ کسی وجہ سے رات کو وہ عمل یا وظیفہ نہ کر سکے تو اسے اس پر ہمیشگی ودوام کو بر قرار رکھنے کے لیے دن کو ظہر سے پہلے پہلے کر لینا چاہیے۔
اس طرح وہ رات کو ادا کیا گیا عمل ہی شمار ہو گا اور اس کا دوام برقرار رہے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 747 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1313 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جو اپنا وظیفہ پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے؟`
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص اپنا پورا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جائے پھر اسے صبح اٹھ کر فجر اور ظہر کے درمیان میں پڑھ لے تو اسے اسی طرح لکھا جائے گا گویا اس نے اسے رات ہی کو پڑھا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1313]
1313. اردو حاشیہ: فائدہ: نوافل کی قضائی دینا‘ مندوب ومستحب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1313 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1343 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جو کوئی رات کا مقررہ وظیفہ یا ورد پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے؟`
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا پورا وظیفہ (ورد) یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ کر سو جائے، اور اسے فجر و ظہر کے درمیان پڑھ لے، تو اس کو ایسا لکھا جائے گا گویا اس نے رات میں پڑھا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1343]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
نماز تہجد میں قرآن مجید کی کوئی خاص مقدار تلاوت کرنے کا معمول بنا لینا درست ہے۔

(2)
تلاوت اور ذکر واذکار کےلئے کوئی وقت مکروہ نہیں۔

(3)
رات کے نوافل اور تلاوت کا ثواب زیادہ ہے لیکن مذکورہ صورت میں دن کے وقت بھی پورا ثواب ملے گا۔
گویا عذر شرعی عند اللہ معتبر ہے اور اس کی وجہ سے ہو جانے والی کوتاہی کالعدم متصور ہوگی-
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1343 سے ماخوذ ہے۔