حدیث نمبر: 303
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أَبُو قِرْصَافَةَ الْعَسْقَلانِيُّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ نَافِعٍ الأُرْسُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْحُصَيْنِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "صَلاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلاةِ الْقَائِمِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ رَوْحٍ ، إِلا مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، وَلا عَنْ مُوسَى ، إِلا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْحُصَيْنِ ، وَلا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، إِلا زَكَرِيَّا بْنُ نَافِعٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو قِرْصَافَةَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ کر نماز پڑھنے کا اجر کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصلوٰة / حدیث: 303
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 735، ومالك فى «الموطأ» برقم: 306، ، 307، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1237، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1659، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1365، ، 1372، ، 1373، ، 1374، ، 1375، ، 1376، وأبو داود فى «سننه» برقم: 950، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1424، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1229، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 4666، ، 13519، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6623، ، 6921، والطبراني فى«الكبير» برقم: 14186، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 338، ، 746، ، 857، ، 870، والطبراني فى «الصغير» برقم: 954»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 735 | سنن ابي داود: 950 | سنن ابن ماجه: 1229

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 950 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: بیٹھ کر پڑھنے والے شخص کی نماز آدھی نماز ہے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے (تعجب سے) اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عبداللہ بن عمرو! کیا بات ہے؟، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے: بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو نصف ثواب ملتا ہے اور آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں سچ ہے، لیکن میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 950]
950۔ اردو حاشیہ:
➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی کہ نوافل بیٹھ کر پڑھتے تو پورا ثواب پاتے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سمجھتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شرعی امور کے اس طرح پابند ہیں، جس طرح کہ امت ہے۔ «آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ» [البقره۔ 285]
مگر جہاں آپ کی خصوصیت بیان ہو گئی ہے وہاں استثناء ہے۔
➋ بلا عذر بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے سے آدمی کو آدھا ثواب ملتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 950 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1229 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بیٹھ کر نماز پڑھنے میں آدھا ثواب ہے۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اس وقت وہ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے مقابلے میں (ثواب میں) آدھی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1229]
اردو حاشہ:
فائدہ: یہ اس صورت میں ہے جب بلا عذر بیٹھ کر نماز پڑھی جائے جیسے بعض لوگ فرض نمازوں کے بعد بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر دو نفل پڑھتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1229 سے ماخوذ ہے۔