حدیث نمبر: 30
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَرُوفٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّدُوسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنٍ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ ، فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرَ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ وَسَبْعِ أَمْثَالِهَا ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً أَوْ يَمْحُوهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْحَسَنِ ، إِلا أَشْعَثُترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور وہ اسے کر نہ سکا تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی، اور اگر اسے کرے تو وہ دس سے سات سو تک لکھی جائیں گی۔ اور جس نے برائی کا ارادہ کیا اور پھر کر نہ سکا تو اس پر کچھ نہ لکھا جائے گا، اور اگر اس نے اس کا ارتکاب کیا تو ایک برائی لکھی جائے گی، یا اسے اللہ تعالیٰ مٹا دے گا۔ (یعنی معاف کر دے گا۔)“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3821 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عمل کی فضیلت۔`
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو شخص ایک نیکی کرے گا اس کو اسی طرح دس نیکیوں کا ثواب ملے گا، اور میں اس پر زیادہ بھی کر سکتا ہوں، اور جو شخص ایک برائی کرے گا اس کو ایک ہی برائی کا بدلہ ملے گا، یا میں بخش دوں گا، اور جو شخص مجھ سے (عبادت و طاعت کے ذریعہ) ایک بالشت قریب ہو گا، تو میں اس سے ایک ہاتھ نزدیک ہوں گا، اور جو شخص مجھ سے ایک ہاتھ نزدیک ہو گا تو میں اس سے ایک «باع» یعنی دونوں ہاتھ قریب ہو گا، اور جو شخص میرے پاس (معمولی چال سے) چل کر آئے گا، تو میں اس کے پاس دوڑ کر آؤں گا، اور جو شخص مج۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3821]
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو شخص ایک نیکی کرے گا اس کو اسی طرح دس نیکیوں کا ثواب ملے گا، اور میں اس پر زیادہ بھی کر سکتا ہوں، اور جو شخص ایک برائی کرے گا اس کو ایک ہی برائی کا بدلہ ملے گا، یا میں بخش دوں گا، اور جو شخص مجھ سے (عبادت و طاعت کے ذریعہ) ایک بالشت قریب ہو گا، تو میں اس سے ایک ہاتھ نزدیک ہوں گا، اور جو شخص مجھ سے ایک ہاتھ نزدیک ہو گا تو میں اس سے ایک «باع» یعنی دونوں ہاتھ قریب ہو گا، اور جو شخص میرے پاس (معمولی چال سے) چل کر آئے گا، تو میں اس کے پاس دوڑ کر آؤں گا، اور جو شخص مج۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3821]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل: (1)
اس حدیث میں اللہ کی عظیم رحمت کا بیان ہے، اس لیے بندے کو نیکیاں زیادہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور گناہوں سے توبہ کرتے رہنا چاہیے۔
(2)
جو شخص اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اللہ تعالی اسے توفیق بخشتا ہے۔
(3)
شرک کی موجودگی میں گناہ معاف نہیں ہوتے۔
فوائد و مسائل: (1)
اس حدیث میں اللہ کی عظیم رحمت کا بیان ہے، اس لیے بندے کو نیکیاں زیادہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور گناہوں سے توبہ کرتے رہنا چاہیے۔
(2)
جو شخص اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اللہ تعالی اسے توفیق بخشتا ہے۔
(3)
شرک کی موجودگی میں گناہ معاف نہیں ہوتے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3821 سے ماخوذ ہے۔