حدیث نمبر: 3
حَدَّثَنَا أَبُو الدَّحْدَاحِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلُ الْعُذْرِيُّ الدِّمَشْقِيُّ ، بِدِمَشْقَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَالِبٍ ، قَالَ : جِيءَ بِرُءُوسِ الْخَوَارِجِ ، فَنُصِبَتْ عَلَى دَرَجِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهَا ، وَخَرَجْتُ أَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهَا ، فَجَاءَ أَبُو أُمَامَةَ ، عَلَى حِمَارٍ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ سُنْبُلانِيُّ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : "مَا صَنَعَ الشَّيْطَانُ بِهَذِهِ الأُمَّةِ ؟ ، يَقُولُهَا ثَلاثًا ، شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ هَؤُلاءِ ، خَيْرُ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ مَنْ قَتَلَهُ هَؤُلاءِ ، هَؤُلاءِ كِلابُ النَّارِ ، يَقُولُهَا ثَلاثًا ثُمَّ بَكَى ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، قَالَ أَبُو غَالِبٍ : فَاتَّبَعْتُهُ ، فَقُلْتُ : سَمِعْتُكَ تَقُولُ قَوْلا قَبْلُ ، فَأَنْتَ قُلْتَهُ ؟ ، فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ ، بَلْ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا ، فَقُلْتُ لَهُ : رَأَيْتُكَ بَكَيْتَ ، فَقَالَ : رَحْمَةً لَهُمْ كَانُوا مِنْ أَهْلِ الإِسْلامِ مَرَّةً ، ثُمَّ قَالَ لِي : أَمَا تَقْرَأُ ؟ قُلْتُ : بَلَى قَالَ : فَاقْرَأْ مِنْ آلِ عِمْرَانَ ، فَقَرَأْتُ ، فَقَالَ : أَمَا تَسْمَعُ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ سورة آل عمران آية 7 كَانَ فِي قُلُوبِ هَؤُلاءِ زَيْغٌ ، فَزِيغَ بِهِمُ ، اقْرَأْ عِنْدَ رَأْسِ الْمِائَةِ ، فَقَرَأْتُ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ : يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ سورة آل عمران آية 106 ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا أُمَامَةَ ، أَهُمْ هَؤُلاءِ ؟ قَالَ : نَعَمْ هُمْ هَؤُلاءِ " . لَمْ يَرْوِهِ عَنْ خُلَيْدِ بْنِ دَعْلَجٍ ، إِلا ابْنُ الْوَلِيدِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

ابوغالب بیان کرتے ہیں جب خارجیوں کے سر لائے گئے اور مسجد دمشق کی ایک سیڑھی پر رکھے گئے تو لوگ انہیں دیکھنے آ رہے تھے، میں بھی انہیں دیکھنے نکلا تو ابوامامہ رضی اللہ عنہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، وہ ایک سنبلانی قمیص پہنے ہوئے تھے، انہوں نے ان کو دیکھا اور کہنے لگے: اس امت کے ساتھ شیطان نے کیا کچھ کر دیا۔ یہ بات انہوں نے دو دفعہ کہی، پھر فرمایا: آسمان کے سائے تلے سب سے بدترین مقتول یہ ہیں اور جنہیں انہوں نے قتل کیا وہ بہترین مقتول ہیں۔ پھر فرمایا: یہ (خارجی) جہنم کے کتے ہیں۔ تین دفعہ کہہ کر رو پڑے، پھر واپس چلے گئے۔ ابوغالب نے کہا: میں بھی ان کے پیچھے چلا گیا، پھر میں نے کہا: میں نے آپ سے تھوڑی دیر پہلے ایک بات سنی ہے تو کیا وہ بات آپ نے کہی ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ میں ایسی جرأت کیسے کر سکتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی بار فرماتے ہوئے سنا ہے۔ میں نے کہا: پھر آپ روئے بھی ہیں، تو وہ کہنے لگے: ہاں، ان پر رحم کھاتے ہوئے کہ وہ بھی پہلے کبھی مسلمان تھے۔ پھر انہوں نے مجھے فرمایا: کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، تو کہنے لگے: آل عمران پڑھو، میں نے پڑھی تو فرمانے لگے: کیا تم نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ”جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ قرآن کی متشابہ آیات پر چلتے ہیں“، گویا ان کے دلوں میں کجی تھی جس نے انہیں ٹیڑھا چلایا۔ پھر کہا: سو (100) آیات کے آخر سے پڑھیں، تو میں نے پڑھا: ﴿يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ﴾ ”جس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے تو جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے انہیں کہا جائے گا: کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا تھا؟“ تو میں نے کہا: اے ابوامامہ! کیا یہ وہی لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں! یہ وہی لوگ ہیں۔

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الإيمان / حدیث: 3
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح ) وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 2669
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 2669، 2670، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3000، قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 176، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16883، 16884، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22581، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 1232، والحميدي فى «مسنده» برقم: 932، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18663، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 39047، وأخرجه الطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 2519، وأخرجه الطبراني فى«الكبير» برقم: 7553، 8033، 8034، 8035، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 7202، 7660، 9085، وأخرجه الطبراني فى «الصغير» برقم: 33، 1096 ¤ قال الهيثمي: ورجاله ثقات ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (6 / 233)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3000 | سنن ابن ماجه: 176 | معجم صغير للطبراني: 67 | مسند الحميدي: 932

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 176 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´خوارج کا بیان۔`
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ خوارج سب سے بدترین مقتول ہیں جو آسمان کے سایہ تلے قتل کیے گئے، اور سب سے بہتر مقتول وہ ہیں جن کو جہنم کے کتوں (خوارج) نے قتل کر دیا، یہ خوارج مسلمان تھے، پھر کافر ہو گئے ۱؎۔ ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ یہ بات خود اپنی جانب سے کہہ رہے ہیں؟ تو ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 176]
اردو حاشہ: (1)
اس میں خارجیوں کی شدید مذمت ہے اور ان کے کافر اور دوزخی ہونے کی صراحت ہے۔

(2)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے عقائد کفریہ ہیں، جن کی وجہ سے انہیں اسلام سے نکل کر کفر اختیار کر لینے والے قرار دیا گیا ہے۔

(3)
خارجیوں سے جنگ کرنے والے مسلمانوں کو بلند مقام اور فضیلت حاصل ہے۔

(4)
اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے خارجیوں سے جنگ کی اور ایک خارجی کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 176 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 932 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
932- ابوغالب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے مشق کی سیڑھی پر خارجیوں کے سر ملاحظہ کیے، تو ارشاد فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ یہ اہل جہنم کے کتے ہیں۔ یہ اہل جہنم کے کتے ہیں۔ یہ اہل جہنم کے کتے ہیں۔ پھر سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روپڑے پھر انہوں نے ارشاد فرمایا: یہ آسمان کے نیچے قتل ہونے والے بدترین افراد ہیں۔ اور سب سے بہتر وہ لوگ ہوں گے جوان کے ساتھ جنگ کریں گے۔ (میں نے دریافت کیا) کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں (اگر نہ سنی ہو ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:932]
فائدہ:
اس حدیث میں خارجیوں کی مذمت بیان کی گئی ہے، جو ہر کسی کو کافر کہتے ہیں اور ان کے خلاف خروج کو جائز سمجھتے ہیں، اور بے جا مسلمانوں کوقتل کرتے ہیں، ایسے لوگ جہنمی ہیں ہمیں بھی پاکستان میں کچھ ایسے ہی تکفیری اور خارجی لوگوں سے واسطہ ہے، جو خفیہ انداز سے دہشت گردی پر تلے ہوئے ہیں، اور پاکستان کے ہزاروں مسلمانوں کو خودکش حملوں کی صورت میں قتل کر چکے ہیں، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے، آمین۔ نیز اس حدیث میں دلیل ہے کہ صحابہ کرام ﷡ سچے انسان تھے، وہ جھوٹ سے کوسوں دور تھے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 931 سے ماخوذ ہے۔