حدیث نمبر: 296
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهَ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ قَطَنٍ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي، قَالَ : رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَتِ ، مَا هَذِهِ الصَّلاةُ ؟ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ حَبِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ "صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ ، وَقَالَ : مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ ، وَإِنْ كَانَتْ مثل زَبَدِ الْبَحْرِ "، لا يُرْوَى عَنْ عَمَّارٍ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ ، تَفَرَّدَ بِهِ صَالِحُ بْنُ قَطَنٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا محمد بن عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے مغرب کے بعد چھ رکعت ادا کیں تو میں نے کہا: ابا جان! یہ کون سی نماز ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے اپنے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ مغرب کے بعد چھ رکعت ادا کرتے تھے اور فرماتے: ”جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعت پڑھے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں چاہے وہ سمندر کی جھاگ جیسے ہوں۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصلوٰة / حدیث: 296
درجۂ حدیث محدثین: [إسناده ضعيف
تخریج حدیث «[إسناده ضعيف ، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 7245، والطبراني فى «الصغير» برقم: 900، والترمذي : 435 ، قال الهيثمي: قال الطبراني تفرد به صالح بن قطن البخاري قلت ولم أجد من ترجمه ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:(2 / 230)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 435 | سنن ابن ماجه: 1167 | سنن ابن ماجه: 1374

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 435 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی، تو ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 435]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم نہایت ضعیف راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 435 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1374 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مغرب اور عشاء کے درمیان کی نماز کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں، اور بیچ میں زبان سے کوئی غلط بات نہیں نکالی، تو اس کی یہ نماز بارہ سال کی عبادت کے برابر قرار دی جائے گی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1374]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
بعض لوگ اس نماز کواوابین کے نام سے پکارتے ہیں۔
صحیح بات یہ ہے کہ صلاۃ اوابین نماز چاشت (ضحیٰ)
کا دوسرا نام ہے۔
جیسے کہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ (صَلاَةُ اَوَّابِيْنَ حِيْنَ تَرْمَضُ الْفِصَال)
 (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ الأوابین حین ترمض الفصال، حدیث: 748)
 ’’اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی نماز اسوقت ہوتی ہے۔
جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں (ریت کی گرمی سے)
جلنے لگیں۔
مذکورہ دونوں روایتیں ضعیف ہیں۔
اس لئے دونوں ناقابل حجت ہیں۔
نماز چاشت کی وضاحت آگے آرہی ہے
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1374 سے ماخوذ ہے۔