حدیث نمبر: 29
حَدَّثَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ الْوَاسِطِيُّ الْمُعَدِّلُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ النَّشَائِي ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ عَنْبَسَةَ الْحَدَّادِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَأَبِي سَلَمَةَ ، إِلا عَنْبَسَةُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن مجید میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الإيمان / حدیث: 29
درجۂ حدیث محدثین: حسن صحيح
تخریج حدیث «حسن صحيح ، أخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 74، 743، 1464، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2900، 2901، 3786، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8039، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4603، قال الشيخ الألباني: حسن صحيح ، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7624، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5897، 6016، والبزار فى «مسنده» برقم: 7688، 7796، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 30743، 30795، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 3101، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2478، 3666، 4212، 5909، 6233، والطبراني فى «الصغير» برقم: 496، 574»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4603 | معجم صغير للطبراني: 1109 | مشكوة المصابيح: 236

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4603 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قرآن کے بارے میں جھگڑنے کی ممانعت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کے بارے میں جھگڑنا کفر ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4603]
فوائد ومسائل:

(المراء) سے مراد جھگڑنا اور شک کا اظہار کرنا ہے۔
لہذا قرآنی آیات میں ایسا مباحثہ اور جھگڑا کرنا کہ کسی حصے کی تکزیب لازم آئے یا شک وشبہ پیدا ہو حرام اور کفر ہے۔


قابل حل مقامات کے لیے ثقہ اور راسخ علماء کی طرف رجوع کرکے صحیح معنی ومفہوم معلوم کرنا چاہیے۔
متشابہات کے درپے ہونے سے بچنا ضروری ہے اور جہاں تک ہوسکے شکوک و شبہات اور فتنہ پیدا کرنے والے لوگوں کو واضح دلائل سے قائل کیا جائے اور عوام کو ان سے دور رکھا جائے۔


مذکورہ احادیث سے پتا چلتا ہے کہ جان بوجھ کر لوگوں میں فتنہ انگیزی کرنے والے امت کے لیے خطرناک ہیں۔
اس فتنہ انگیزی کو روکنے کے طریقے یہ ہیں: اہل اہواء سے مقاطعہ۔
  ان کی تمام با توں آکر اوٹ پٹانگ معاملات میں الجھنے سے پرہیز، معاشرے میں نفرت پھیلانے والے کاموں سے اجتناب جو فتنہ برپا کرنے والے نہ ہوں غلطیوں پر ان کی پر حکمت تفہیم۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4603 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 236 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´قرآن کریم کے مفاہیم پر اختلاف اور جھگڑے کی ممانعت`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قران مجید کے بارے میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ اس حدیث کو احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 236]
تحقیق الحدیث:
اس کی سند حسن ہے۔
◄ اسے ابن حبان [73] حاکم [2؍223 ح2882] اور ذہبی تینوں نے صحیح قرار دیا ہے۔
اس کے راوی محمد بن عمرو بن علقمہ اللیثی جمہور محدثین کے نزدیک موثق ہونے کی وجہ سے صدوق حسن الحدیث تھے اور باقی سند صحیح ہے۔

فقہ الحدیث:
«مراء» (جھگڑے) سے مراد شک و شبہے کی بنیاد پر قرآن مجید کی آیات کے بارے میں جھگڑا کرنا یا آیات کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر کتاب اللہ میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے۔
➋ قرآن مجید کے بارے میں شک کرنا کفر ہے۔
➌ آیات قرآنیہ کو باہم ٹکرانا اور ساقط قرار دینا کفر اور حرام ہے، لہٰذا اہل اسلام کو ایسی حرکتوں سے ہمیشہ اجتناب کرنا چاہئے۔
➍ جو شخص قرآن مجید کے فہم کے لئے احادیث صحیحہ، آثار صحابہ و تابعین اور سلف صالحین کی طرف رجوع کرتا ہے، وہ اللہ کے فضل و کرم سے ہر قسم کے کفر، گمراہی، بدعات اور غلطیوں سے محفوظ رہتا ہے۔
➎ جس طرح قرآن کو قرآن سے ٹکرانا کفر اور حرام ہے، اسی طرح احادیث صحیحہ کو بھی قرآن سے ٹکرانا حرام اور باطل ہے۔
➏ دنیا کے تمام کفار اور گمراہوں (مبتدعین، ضالّین، مضلّین) کی دو قسمیں ہیں: ① قرآن مجید کے کلام ہونے کے بارے میں شک اور انکار کرتے ہیں۔
② قرآن کو قرآن سے یا احادیث صحیحہ کو قرآن سے ٹکرا کر دین اسلام کا انکار کر کے کفر اور گمراہیوں کے دروازے کھولتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو ان لوگوں کے شرک سے محفوظ رکھے۔ «آمين»
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 236 سے ماخوذ ہے۔