حدیث نمبر: 285
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الصَّبَاحِ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا هَانِئُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، وَسُمَيٍّ مَوْلَى أبي بكر عبد الرحمن بن هشام ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَى فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " ذَهَبَ ذَوُو الأَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَيَحُجُّونَ كَمَا نَحُجُّ ، وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَتَصَدَّقُونَ مِنْهَا ، وَلَيْسَ لَنَا مَا نَتَصَدَّقُ ، فَقَالَ : أَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ أَدْرَكْتُمْ مَنْ سَبَقَكُمْ ، وَلَمْ يَلْحَقْكُمْ مِنْ خَلْفِكُمْ إِلا مَنْ عَمِلَ بِمِثْلِ مَا عَمِلْتُمْ بِهِ ؟ تُسَبِّحُونَ اللَّهَ دُبُرَ كُلِّ صَلاةٍ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وتحَمَدُونَهُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَتُكَبِّرُونَهُ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ الأَغْنِيَاءَ ، فَقَالُوا مثل مَا قَالُوا ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ رَجَاءٍ ، إِلا ابْنُ عَجْلانَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: فقراء مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو کہنے لگے: یا رسول اللہ! مالدار لوگ ہم سے اجر لے گئے، وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزے بھی رکھتے اور ہماری طرح حج بھی کرتے ہیں۔ لیکن ان کے پاس مال ہے وہ اس سے صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرتے، کیونکہ ہمارے پاس مال نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایک ایسا عمل نہ بتاؤں کہ جب تم اس طرح کرو گے تو آگے بڑھنے والوں کو پا لو گے، اور پیچھے والے تمہیں پہنچ نہیں سکیں گے، مگر جو اس طرح عمل کرے جیسا کہ تم کرو گے۔ ہر نماز کے بعد تینتیس بار سبحان اللہ، تینتیس دفعہ الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر پڑھو۔“ جب یہ حدیث مالدار لوگوں کو پہنچی تو وہ بھی یہ ذکر کرنے لگے اور اسی طرح کہنے لگے تو فقراء پھر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، جیسے چاہتا ہے دے دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصلوٰة / حدیث: 285
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1504 | سنن ابن ماجه: 927

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1504 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کنکریوں سے تسبیح گننے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مال والے تو ثواب لے گئے، وہ نماز پڑھتے ہیں، جس طرح ہم پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم رکھتے ہیں، البتہ ان کے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہے، جو وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاس مال نہیں ہے کہ ہم صدقہ کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں ادا کر کے تم ان لوگوں کے برابر پہنچ سکتے ہو، جو تم پر (ثواب میں) بازی لے گئے ہیں، اور جو (ثواب میں) تمہارے پیچھے ہیں تمہارے برابر نہیں ہو سکتے، سوائے اس شخص کے جو تمہارے جیسا عمل کرے ، انہوں نے کہا: ضرور، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نماز کے بعد (۳۳) بار «الله اكبر» (۳۳) بار «الحمد الله» (۳۳) بار «سبحان الله» کہا کرو، اور آخر میں «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» پڑھا کرو جو ایسا کرے گا) اس کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1504]
1504. اردو حاشیہ: صحیح مسلم۔ المساجد حدیث: 59
➎ وسنن نسائی، السھو۔ حدیث: 354 اور سنن بہیقی (دعوات) اس میں ورد کی ترتیب سبحان اللہ۔ الحمد للہ۔ اور اللہ اکبر وارد ہے۔ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق اس روایت میں آخری جملہ (غفرت له ذنوبه...الخ]
صحیح نہیں ہے بلکہ مدرج ہے۔ تاہم دوسری روایات سے یہ جملہ مرفوعا ً ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1504 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 927 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´سلام پھیر نے کے بعد کیا پڑھے؟`
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یا میں نے کہا: اللہ کے رسول! مال و دولت والے اجر و ثواب میں آگے بڑھ گئے، وہ بھی ذکرو اذکار کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں، اور وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں اور ہم نہیں کر پاتے ہیں، ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرنے لگو تو ان لوگوں (کے مقام) کو پا لو گے جو تم سے آگے نکل گئے، بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ جاؤ گے، تم ہر نماز کے بعد «الحمد لله» «سبحان الله» اور «الله أكبر» کہو (۳۳) بار،۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 927]
اردو حاشہ:
فوائدو مسائل: (1)
نیکیوں میں مسابقت کا جذبہ قابل غور ہے۔

(2)
ذکرالٰہی بعض اوقات مالی عبادات سے بھی زیادہ ثواب کاباعث ہوتا ہے۔

(3)
آگے نکل جانے والوں کو پا لینے کامطلب یہ ہے۔
کہ جو لوگ بہت سی دوسری نیکیاں کر کے تم سے زیادہ بلند درجات تک پہنچ گئے ہیں۔
تم ذکر الٰہی کی برکت سے ان سے زیادہ درجات حاصل کرسکتے ہو۔
اور ذکر الٰہی سے غافل دوسری نیکیاں زیادہ کرنے والے تمہارے جتنے درجات حاصل نہیں کرسکتے۔
اس لئے دوسری نیکیوں کے ساتھ ساتھ ذکر الٰہی کی طرف بھی توجہ ضروری ہے۔

(4)
یہاں راوی کوشک ہے کہ تینوں کلمات میں سے کون سا کلمہ چونتیس بار ہے۔
دوسری روایات سے اس کا یقین ہوجاتا ہے۔
کہ چونتیس بار کہا جانے والا کلمہ اللہ اکبر ہے۔ (سنن ابی داؤد، الأدب، باب فی التسبیح عند النوم، حدیث: 5062)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 927 سے ماخوذ ہے۔