حدیث نمبر: 280
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ رَاشِدٍ الصُّورِيُّ ، بِمَدِينَةِ صُورَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابْلُتِّيُّ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَلا يُؤْذِ بِهِمَا أَحَدًا ، لِيَخْلَعْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، إِلا الْبَابْلُتِّيُّ ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّنْعَانٍيُّ ، عَنِ الأَوْزَاعِيّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اگر وہ اپنے جوتے اتارے تو کسی کو ان کے ذریعے تکلیف نہ دے، بلکہ اپنے دونوں پاؤں کے درمیان میں اتار دے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصلوٰة / حدیث: 280
درجۂ حدیث محدثین: حسن صحيح
تخریج حدیث «حسن صحيح ، أخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1009، 1016، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2182، 2183، 2187، 2188، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 958، 960، 963، وأبو داود فى «سننه» برقم: 654، 655، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1432، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 4327، 4328، والبزار فى «مسنده» برقم: 8432، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 1519، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 7980، 7983، والطبراني فى «الصغير» برقم: 783 ¤قال الشيخ الألباني: حسن صحيح»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 655

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 655 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نمازی اپنے جوتے اتار کر کہاں رکھے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اپنے جوتے اتارے تو ان کے ذریعہ کسی کو تکلیف نہ دے، چاہیئے کہ انہیں اپنے دونوں پاؤں کے بیچ میں رکھ لے یا انہیں پہن کر نماز پڑھے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 655]
655۔ اردو حاشیہ:
➊ جوتے اتار کر یا پہن کر نماز پڑھنا دونوں ہی طرح جائز ہے، البتہ کبھی کبھی یہودیوں کی مخالفت کے اظہار کے لیے پہن کر نماز پڑھنا، احیائے سنت کی نیت سے باعث اجر و فضیلت ہے، مگر خیال رہے کہ یہ کام بے علم عوام میں فتنے کا باعث نہ بنے۔
➋ کسی بھی مسلمان کو کسی طرح سے اذیت دینا حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 655 سے ماخوذ ہے۔