حدیث نمبر: 262
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْهَاشِمِيُّ خَطِيبُ الْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيَّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَسْوَدُ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ " رَأَى رَجُلا يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ وَحْدَهُ بَعْدَمَا صَلَّى ، فَقَالَ : أَلا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّي مَعَهُ "، لا يُرْوَى عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو جماعت ہو جانے کے بعد اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: ”کیا اس پر صدقہ کرنے والا کوئی نہیں جو اس کے ساتھ نماز پڑھے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصلوٰة / حدیث: 262
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، أخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 574، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1632، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2397، 2398، 2399، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 763، والترمذي فى «جامعه» برقم: 220، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1408، 1409، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 5086، 5091، 5092، وأحمد فى «مسنده» برقم: 11175، ، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2174، والطبراني فى «الصغير» برقم: 606، 665 ¤قال الشيخ الألباني: ” صحيح “»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 220 | سنن ابي داود: 574 | معجم صغير للطبراني: 267

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 220 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جس مسجد میں ایک بار جماعت ہو چکی ہو اس میں دوبارہ جماعت کرنے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص (مسجد) آیا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے تو آپ نے فرمایا: تم میں سے کون اس کے ساتھ تجارت کرے گا؟ ۱؎ ایک شخص کھڑا ہو اور اس نے اس کے ساتھ نماز پڑھی۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 220]
اردو حاشہ:
1؎:
ایک روایت میں ہے ((أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ)) ’’کیا کوئی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔

2؎:
لیکن اس حدیث میں صراحۃً یہ بات موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جماعت سے نماز پسند فرمائی، اس کے لیے جماعت سے نماز پڑھ چکے آدمی کو ترغیب دی کہ جا کر ساتھ پڑھ لے تاکہ پیچھے آنے والے کی نماز جماعت سے ہو جائے، تو جب پیچھے رہ جانے والے ہی کئی ہوں تو کیوں نہ جماعت کر کے پڑھیں؛ ﴿فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ﴾ (سورة الحشر: 2) فرض نماز کی طبیعت ہی اصلاً جماعت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 220 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 574 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مسجد میں دو مرتبہ جماعت کرنے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: کیا کوئی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے، یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 574]
574۔ اردو حاشیہ:
➊ جامع ترمذی میں درج ذیل حدیث کا عنوان ہے۔ «باب ما جاء فى الجماعة فى مسجد قد صلى فيه مرة» جس مسجد میں ایک بار (باجماعت) نماز ہو چکی ہو اس میں جماعت کا بیان صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین و تابعین کے علاوہ امام احمد و اسحاق بن راہویہ اس کے قائل ہیں۔ مگر کچھ اہل علم کہتے ہیں کہ دیر سے آنے والے اپنی نماز اکیلے ہی پڑھیں۔ مثلا ابوسفیان، ابن مبارک،امام مالک اور شافعی غالباً ان کی نظر اس پہلو پر ہے کہ لوگوں میں پہلی جماعت کی اہمیت قائم رہے اور وہ اس سے غافل نہ ہوں۔ بہرحال درج ذیل صحیح حدیث سے دوسری جماعت کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
➋ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے۔ [ابن ابي شيبة بحواله نيل الاوطار: 171/3]
➌ اکیلے نماز پڑھنے والے کو اپنا امام بنا لینا جائز ہے اگرچہ دوسرے نے اپنی نماز پڑھ لی ہو اور پہلے نے شروع میں امام بننے کی نیت نہ کی ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 574 سے ماخوذ ہے۔