حدیث نمبر: 258
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبَ الْقِرَبِيُّ الْبَصْرِيُّ ، بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "الإِمَامُ ضَامِنٌ ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ ، اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الأَئِمَّةَ ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِينَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ رَوْحٍ ، إِلا يَزِيدُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام ضامن ہے، اور مؤذن امانت دار ہے۔ اے اللہ! اماموں کو ہدایت فرما اور مؤذنوں کو معاف فرما دے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصلوٰة / حدیث: 258
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، أخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1528، 1529، 1530، 1531، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1672، وأبو داود فى «سننه» برقم: 517، والترمذي فى «جامعه» برقم: 207، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 2052، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1029، والطبراني فى «الصغير» برقم: 297، 595، 750، 796 ¤ قال الدارقطنی : عبد الله بن أيوب القرني ، متروك ، لسان الميزان: (4 / 440) ¤ قال أبو حاتم الرازي: قال حديث الأعمش ونافع بن سليمان ليس بقوي قلت فمحمد بن أبي صالح هو أخو سهيل وعباد قال كذا يروونه، علل الحديث: (2 / 61)»

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 207 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´امام ضامن اور مؤذن امین ہے۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: امام ضامن ہے ۱؎ اور مؤذن امین ۲؎ ہے، اے اللہ! تو اماموں کو راہ راست پر رکھ ۳؎ اور مؤذنوں کی مغفرت فرما ۴؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 207]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی امام مقتدیوں کی نماز کا نگراں اور محافظ ہے، کیونکہ مقتدیوں کی نماز کی صحت امام کی نماز کی صحت پر موقوف ہے، اس لیے اسے آداب طہارت اور آداب نماز کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

2؎:
یعنی لوگ اس کی اذان پر اعتماد کر کے نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ہیں، اس لیے اسے وقت کا خیال رکھنا چاہئے، نہ پہلے اذان دے اور نہ دیر کرے۔

3؎:
یعنی جو ذمہ داری انہوں نے اٹھا رکھی ہے اس کا شعور رکھنے اور اس سے عہدہ برآں ہونے کی توفیق دے۔

4؎:
یعنی اس امانت کی ادائیگی میں ان سے جو کوتاہی ہو اسے بخش دے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 207 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1029 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1029- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے۔ امام ضامن ہے اور مؤذن امانت دار ہے۔ اے اللہ! اماموں کی رہنمائی کر اور اذان دینے والوں کی مغفرت کر دے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1029]
فائدہ:
اس حدیث میں مؤذن اور امام کو تاکید کی گئی ہے کہ اسلام کے اہم ترین رکن نماز کا وقت پر ادا کرنا بہت ہی ضروری ہے، اور اگر مؤذن اور امام سستی کریں گے تو اس اہم ترین رکن نماز میں کمی واقع ہوگی۔ بلکہ اس سے بڑھ کر امام اور مؤذن کا تعلق پورے گاؤں اور محلے سے ہوتا ہے، اس سے امام اور مؤذن کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ انھیں ہر وقت الرٹ رہنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1028 سے ماخوذ ہے۔