حدیث نمبر: 256
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي إِبْرَاهِيمُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : كَانَ "إِذَا خَطَبَ ، قَالَ : أَمَّا بَعْدُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي عَامِرٍ ، إِلا أَبُو دَاوُدَ تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بِسْطَامٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو کہتے: ”أما بعد۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 925 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
925. حضرت ابوحمید ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک رات نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد و ثنا بیان کی جو اس کی شایان شان تھی۔ پھر فرمایا: أمابعد! (امام زہری کے ساتھ) ابومعاویہ اور ابواسامہ نے اس روایت کی متابعت (ہشام سے) کی ہے، اسی طرح عدنی نے بھی سفیان سے روایت کرتے ہوئے لفظ أمابعد بیان کرنے میں اس کی متابعت کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:925]
حدیث حاشیہ: یہ ایک لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے جسے خود حضرت امام ؒ نے ایمان اور نذور میں نکالا ہے۔
ہوا یہ کہ آنحضرت ﷺ نے ابن اللتیبہ نامی ایک صحابی کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا جب وہ زکوۃ کا مال لایا تو بعض چیزوں کی نسبت کہنے لگا کہ یہ مجھ کو بطور تحفہ ملی ہیں، اس وقت آپ نے عشاء کے بعد یہ خطبہ سنایا اور بتایا کہ اس طرح سرکاری سفر میں تم کو ذاتی تحائف لینے کا حق نہیں ہے جو بھی ملا ہے وہ سب بیت المال میں داخل کرنا ہوگا۔
ہوا یہ کہ آنحضرت ﷺ نے ابن اللتیبہ نامی ایک صحابی کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا جب وہ زکوۃ کا مال لایا تو بعض چیزوں کی نسبت کہنے لگا کہ یہ مجھ کو بطور تحفہ ملی ہیں، اس وقت آپ نے عشاء کے بعد یہ خطبہ سنایا اور بتایا کہ اس طرح سرکاری سفر میں تم کو ذاتی تحائف لینے کا حق نہیں ہے جو بھی ملا ہے وہ سب بیت المال میں داخل کرنا ہوگا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 925 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 925 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
925. حضرت ابوحمید ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک رات نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد و ثنا بیان کی جو اس کی شایان شان تھی۔ پھر فرمایا: أمابعد! (امام زہری کے ساتھ) ابومعاویہ اور ابواسامہ نے اس روایت کی متابعت (ہشام سے) کی ہے، اسی طرح عدنی نے بھی سفیان سے روایت کرتے ہوئے لفظ أمابعد بیان کرنے میں اس کی متابعت کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:925]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس مقام پر امام بخاری ؒ نے مذکورہ حدیث کو اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔
اس میں ابن لُتیبہ کا قصہ بیان ہوا ہے جس کی مکمل تفصیل کتاب الزکاة میں بیان کی جائے گی۔
(2)
امام مسلم نے ابو معاویہ اور ابو اسامہ کی متابعت کو اپنی متصل سند سے بیان کیا ہے۔
امام بخاری ؒ نے ابو اسامہ کی روایت کو اختصار کے ساتھ کتاب الزکاة (حدیث: 1500)
میں ذکر کیا ہے، نیز عبداللہ بن ولید عدنی کی متابعت کو علامہ اسماعیلی ؒ نے اپنی مسند میں متصل سند سے ذکر کیا ہے۔
(فتح الباري: 521/2)
(1)
اس مقام پر امام بخاری ؒ نے مذکورہ حدیث کو اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔
اس میں ابن لُتیبہ کا قصہ بیان ہوا ہے جس کی مکمل تفصیل کتاب الزکاة میں بیان کی جائے گی۔
(2)
امام مسلم نے ابو معاویہ اور ابو اسامہ کی متابعت کو اپنی متصل سند سے بیان کیا ہے۔
امام بخاری ؒ نے ابو اسامہ کی روایت کو اختصار کے ساتھ کتاب الزکاة (حدیث: 1500)
میں ذکر کیا ہے، نیز عبداللہ بن ولید عدنی کی متابعت کو علامہ اسماعیلی ؒ نے اپنی مسند میں متصل سند سے ذکر کیا ہے۔
(فتح الباري: 521/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 925 سے ماخوذ ہے۔