معجم صغير للطبراني
كتاب الصلوٰة— نماز کا بیان
باب: دو فرض نمازوں کے درمیان کوئی لغو بات نہ کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 241
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا دُحَيْمٌ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ ، وَأَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "صَلاةٌ عَلَى إِثْرِ صَلاةٍ لا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حَفْصِ بْنِ غَيْلانَ ، إِلا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک نماز کے بعد دوسری نماز پڑھنا جب کہ دونوں کے درمیان کوئی لغو بات نہ ہو تو وہ علیین میں لکھی جاتی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1288 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نماز الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان۔`
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک نماز کے بعد دوسری نماز کی ادائیگی اور ان دونوں کے درمیان میں کوئی بیہودہ اور فضول کام نہ کرنا ایسا عمل ہے جو علیین میں لکھا جاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1288]
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک نماز کے بعد دوسری نماز کی ادائیگی اور ان دونوں کے درمیان میں کوئی بیہودہ اور فضول کام نہ کرنا ایسا عمل ہے جو علیین میں لکھا جاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1288]
1288. اردو حاشیہ:
«عليين» وہ مقا م ہے جہاں صالحین کے اعمال نامے رکھے گئے ہیں اور ان میں ان کے اعمال درج ہوتے ہیں، اس کے بالمقابل کفار و فجار کے لیے «سجين» ہے، جیسے کہ سورۃ المطففین میں ذکر ہے۔
«عليين» وہ مقا م ہے جہاں صالحین کے اعمال نامے رکھے گئے ہیں اور ان میں ان کے اعمال درج ہوتے ہیں، اس کے بالمقابل کفار و فجار کے لیے «سجين» ہے، جیسے کہ سورۃ المطففین میں ذکر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1288 سے ماخوذ ہے۔