حدیث نمبر: 237
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَيْدٍ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الإِفْرِيقِيِّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي الْجَنَّةِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِتِسْعِ سُوَرٍ فِي ثَلاثِ رَكَعَاتٍ : أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ، وَ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، وَ إِذَا زُلْزِلَتِ الأَرْضُ فِي رَكْعَةٍ ، وَفِي الثَّانِيَةِ : وَالْعَصْرِ ، وَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ ، وَ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ، وَفِي الثَّالِثَةِ : قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَ تَبَّتْ ، وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الإِفْرِيقِيِّ وَاسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ ، إِلا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي ، تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ "
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعتوں میں نو سورتوں کے ساتھ وتر پڑھتے۔ ایک رکعت میں: ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾، ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾، ﴿إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا﴾ اور دوسری رکعت میں: ﴿وَالْعَصْرِ﴾، ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾، ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ اور تیسری رکعت میں: ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾، ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾، ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾۔

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصلوٰة / حدیث: 237
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، أخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 460، وأحمد فى «مسنده» برقم: 689، 696، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 460، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 68، والبزار فى «مسنده» برقم: 853، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 1724، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 1241، والطبراني فى «الصغير» برقم: 457
قال حسین سلیم اسد : اسناده ضعیف
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا، المشكاة (1281)
قال الشيخ زبير على زئي: الترمذي (460) إسناده ضعيف
ھشام بن حسان مدلس و عنعن (د 443)
وله شواهد من حديث عبد الله بن عمر بن الخطاب، وحديث عائشة بنت أبي بكر الصديق، وحديث أبي أيوب الأنصاري، وحديث محمد بن سيرين، وحديث عبد الله بن عباس، وحديث أبي بن كعب، وحديث عبادة بن الصامت، وحديث عبد الله بن مسعود»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 460

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 460 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´تین رکعت وتر پڑھنے کا بیان۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے، ان میں مفصل میں سے نو سورتیں پڑھتے ہر رکعت میں تین تین سورتیں پڑھتے، اور سب سے آخر میں «‏قل هو الله أحد» پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب الوتر​/حدیث: 460]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث حارث اعور کی وجہ سے ضعیف ہے، مگر اس کیفیت کے ساتھ ضعیف ہے، نہ کہ تین رکعت وتر پڑھنے کی بات ضعیف ہے، کئی ایک صحیح حدیثیں مروی ہیں کہ آپ ﷺ تین رکعت وتر پڑتے تھے، پہلی میں ﴿سبح اسم ربك الاعلى﴾ دوسری میں ﴿قل ياأيها الكافرون﴾ اور تیسری میں ﴿قل هو الله أحد﴾ پڑھتے تھے۔

2؎:
سارے آئمہ کرام و علماء امت اس بات کے قائل ہیں کہ آدمی کو اختیار ہے کہ چاہے پانچ رکعت پڑھے، چاہے تین، یا ایک، سب کے سلسلے میں صحیح احادیث وارد ہیں، اور یہ بات کہ نہ تین سے زیادہ وتر جائز ہے نہ تین سے کم (ایک) تو اس بات کے قائل صرف آئمہ احناف ہیں، وہ بھی دو رکعت کے بعد قعدہ کے ساتھ جس سے وتر کی مغرب سے مشابہت ہو جاتی ہے، جبکہ اس بات سے منع کیا گیا ہے۔

نوٹ:
(سند میں حارث اعور سخت ضعیف ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 460 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 460 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
... سیدنا علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے ... [سنن ترمذي 460]
محدثین کے ابواب ’’پہلے اور بعد؟!‘‘

سوال: الیاس گھمن صاحب نے اپنی ایک تقریر میں کہا ہے کہ اہلحدیث جو ہیں وہ منسوخ روایات پر عمل کرتے ہیں اور ہم دیوبندی ناسخ روایات پر عمل کرتے ہیں۔

اور وہ ایک قاعدہ و قانون بتاتے ہیں کہ محدثین کرام رحمہم اللہ اجمعین اپنی احادیث کی کتابوں میں پہلے منسوخ روایات کو یا اعمال کو لائے ہیں پھر اُنھوں نے ناسخ روایات کو جمع کیا ہے۔

کیا واقعی یہ بات درست ہے؟

اور وہ مثال دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ محدثین نے اپنی کتابوں میں پہلے رفع یدین کرنے کی روایات ذکر کی ہیں پھر نہ کرنے کی روایات ذکر کی ہیں یعنی رفع الیدین منسوخ ہے اور رفع الیدین نہ کرنا ناسخ ہے، اسی طرح محدثین نے پہلے فاتحہ خلف الامام پڑھنے کی روایات ذکر کی ہیں پھر امام کے پیچھے فاتحہ نہ پڑھنے کی روایات ذکر کی ہیں، اہلِ حدیث منسوخ روایات پر عمل کرتے ہیں اور ہم ناسخ پر۔

کیا …… الیاس گھمن صاحب نے جو قاعدہ و قانون بیان کیا ہے وہ واقعی محدثینِ جمہور کا قاعدہ ہے اور دیوبندیوں کا اس قانون پر عمل ہے اور اہل حدیث اس قانون کے مخالف ہیں؟ اس کی وضاحت فرمائیں۔

الجواب:

گھمن صاحب کی مذکورہ بات کئی وجہ سے غلط ہے، تاہم سب سے پہلے تبویبِ محدثین کے سلسلے میں دس (10) حوالے پیشِ خدمت ہیں: 1) امام ابو داود نے باب باندھا: ’’بَابُ مَنْ لَمْ یَرَ الْجَہْرَ بِبِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ‘‘

(سنن ابی داود ص 122، قبل ح 782)

اس کے بعد امام ابو داود نے دوسرا باب باندھا: ’’بَابُ مَنْ جَہَرَ بِہَا‘‘

(سنن ابی داود ص 122، قبل ح 786)

یعنی امام ابو داود نے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم عدمِ جہر (سراً فی الصلوٰۃ) والا باب لکھا اور بعد میں بسم اللہ بالجہر والا باب باندھا تو کیا گھمن صاحب اور اُن کے ساتھی اس بات کے لئے تیار ہیں کہ سراً بسم اللہ کو منسوخ اور جہراً بسم اللہ کو ناسخ قرار دیں؟ اور اگر نہیں تو پھر اُن کا اُصول کہاں گیا؟!

تنبیہ:
امام ترمذی نے بھی ترکِ جہر کا پہلے اور جہر کا باب بعد میں باندھا ہے۔ دیکھئے سنن الترمذی (ص 67۔68 قبل ح 244، 245)



2) امام ترمذی رحمہ اللہ نے باب باندھا: ’’بَابُ مَا جَاءَ فِی الوِتْرِ بِثَلَاثٍ‘‘

(سنن الترمذی ص 122، قبل ح 459)



پھر بعد میں باب باندھا: ’’بَابُ مَا جَاء َ فِی الوِتْرِ بِرَکْعَۃٍ‘‘

(سنن الترمذی قبل ح 461)

کیا گھمن صاحب اپنے خود ساختہ قاعدے و قانون کی رُو سے تین وتر کو منسوخ اور ایک وتر کو ناسخ سمجھ کر ایک وتر پڑھنے کے قائل و فاعل ہو جائیں گے؟!

اصل مضمون کے لئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 3 صفحہ 250 تا 259) تحقیقی و علمی مقالات (جلد 4 صفحہ 482 تا 488) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
درج بالا اقتباس تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 482 سے ماخوذ ہے۔