حدیث نمبر: 233
حَدَّثَنَا حَمْدَانُ بْنُ أَيُّوبَ السِّمْسَارُ الْبَغْدَادِيُّ ، بِمِصْرَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّوَاسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "صَلَّى فِي ثَوْبٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، إِلا ابْنُهُ حُمَيْدٌ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے کو لپیٹ کر نماز پڑھی۔

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصلوٰة / حدیث: 233
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 352، 353، 361، 370، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 518، 766، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 762، 767، 1535، 1536، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2197، 2265، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 938، وأبو داود فى «سننه» برقم: 485، 633، 634، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 974، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 3330، 3331، 3339، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14336، 14352، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 5245، 8918، وأخرجه الطبراني فى «الصغير» برقم: 435»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 3008 | سنن ابي داود: 485

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 485 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے۔`
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، وہ اپنی مسجد میں تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اس مسجد میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ابن طاب ۱؎ کی ایک ٹہنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو اس کی طرف بڑھے اور اسے ٹہنی سے کھرچا، پھر فرمایا: تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے؟، پھر فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا اپنے سامنے اور اپنے داہنی طرف ہرگز نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پیر کے نیچے تھوکے اور اگر جلدی میں کوئی چیز (بلغم) آ جائے تو اپنے کپڑے سے اس طرح کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کو اپنے منہ پر رکھا (اور اس میں تھوکا) پھر اسے مل دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے «عبير» ۲؎ لا کر دو، چنانچہ محلے کا ایک نوجوان اٹھا، دوڑتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا اور اپنی ہتھیلی میں «خلوق» ۳؎ لے کر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر لکڑی کی نوک میں لگایا اور جہاں بلغم لگا تھا وہاں اسے پوت دیا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی وجہ سے تم لوگ اپنی مسجدوں میں «خلوق» لگایا کرتے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 485]
485۔ اردو حاشیہ:
تھوک، بلغم یا ناک کی آلائش نجس نہیں ہیں، کپڑے میں لگ جائیں تو کپڑا پاک رہتا ہے۔ مگر نضافت کے بالکل خلاف ہے، مسجد اور دیگر محترم مقامات اور اشیاء کا انتہائی ادب و اعزاز رکھنا واجب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 485 سے ماخوذ ہے۔