حدیث نمبر: 222
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا سُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "احْضُرُوا الْجُمُعَةَ ، وَادْنُوا مِنَ الإِمَامِ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيَتَأَخَّرَ عَنِ الْجُمُعَةِ فَيُؤَخَّرَ عَنِ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّهُ لِمَنْ أَهْلِهَا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ ، إِلا الْحَكَمُ ، تَفَرَّدَ بِهِ سُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن حاضر ہوا کرو، اور امام کے قریب ہو کر بیٹھو، کوئی آدمی اہلِ جنت سے ہوتا ہے مگر وہ جمعہ کی نماز سے پیچھے رہنے لگتا ہے تو وہ جنت سے بھی پیچھے کر دیا جاتا ہے، حالانکہ وہ جنت والوں سے ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصلوٰة / حدیث: 222
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1108

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1108 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´خطبہ کے وقت امام سے قریب بیٹھنے کا بیان۔`
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خطبہ میں حاضر رہا کرو اور امام سے قریب رہو کیونکہ آدمی برابر دور ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جنت میں بھی پیچھے کر دیا جاتا ہے گرچہ وہ اس میں داخل ہوتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1108]
1108۔ اردو حاشیہ:
➊ مسلمان کو بھلائی اور نیکی کے کاموں میں سبقت کرنے کا حریص بننا چاہیے تاکہ اللہ کے ہاں قربت میں سبقت پائے۔ بالخصوص جمعہ اور اس کا خطبہ سننا بہت بڑی اہم نیکیوں میں سے ہے۔
➋ اس طرح امام اور خطیب کے قریب ہو کر بیٹھنا بھی باعث فضیلت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1108 سے ماخوذ ہے۔