حدیث نمبر: 220
حَدَّثَنَا بَانُوبَةُ بْنُ خَالِدِ بْنِ بَانُوبَةَ الأَيْلِيُّ الأُبُلِّيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الضَّالُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتَيِ الْعَشِيِّ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فِي رَكْعَتَيْنِ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : ذُو الْيَدَيْنِ : أَقَصَرْتَ الصَّلاةَ أَمْ نَسِيتَ ؟ ، فَقَالَ : بَلْ نَسِيتُ ، فَقَامَ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ سَلَّمَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، إِلا عُمَرُ بْنُ يَحْيَى ، وَإِنَّمَا سُمَيَّ مُعَاوِيَةَ الضَّالَّ ، لأَنَّهُ ضَلَّ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ عَنِ الطَّرِيقِ فَفُقِدَترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن ڈھلنے کے بعد کی دو نمازوں میں سے ایک نماز ظہر کی یا عصر کی پڑھائی تو آپ نے دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیا، ایک آدمی جس کو ذوالیدین کہا جاتا تھا کہنے لگا: یا رسول اللہ! کیا آپ بھول گئے یا نماز کم کر دی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ میں بھولا ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو سہو کے سجدے کیے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔
حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصلوٰة / حدیث: 220
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1008 | معجم صغير للطبراني: 214 | مسند الحميدي: 1013
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1008 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سجدہ سہو کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شام کی دونوں یعنی ظہر اور عصر میں سے کوئی نماز پڑھائی مگر صرف دو رکعتیں پڑھا کر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر مسجد کے اگلے حصہ میں لگی ہوئی ایک لکڑی کے پاس اٹھ کر گئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر لکڑی پر رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ کا اثر ظاہر ہو رہا تھا، پھر جلد باز لوگ یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم کر دی گئی ہے، نماز کم کر دی گئی ہے، لوگوں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے لیکن وہ دونوں آپ سے (اس سلسلہ میں) بات کرنے سے ڈرے، پھر ایک شخص کھڑا ہوا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کہا کرتے تھے، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں بھولا ہوں، نہ ہی نماز کم کی گئی ہے“، اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں، پھر آپ لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟“، لوگوں نے اشارہ سے کہا: ہاں ایسا ہی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر واپس آئے اور باقی دونوں رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، اس کے بعد «الله أكبر» کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر «الله أكبر» کہہ کر سجدے سے سر اٹھایا پھر «الله أكبر» کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا دوسرا سجدہ کیا پھر «الله أكبر» کہہ کر اٹھے۔ راوی کہتے ہیں: تو محمد سے پوچھا گیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کے بعد پھر سلام پھیرا؟ انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مجھے یہ یاد نہیں، لیکن مجھے خبر ملی ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا ہے: آپ نے پھر سلام پھیرا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1008]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شام کی دونوں یعنی ظہر اور عصر میں سے کوئی نماز پڑھائی مگر صرف دو رکعتیں پڑھا کر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر مسجد کے اگلے حصہ میں لگی ہوئی ایک لکڑی کے پاس اٹھ کر گئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر لکڑی پر رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ کا اثر ظاہر ہو رہا تھا، پھر جلد باز لوگ یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم کر دی گئی ہے، نماز کم کر دی گئی ہے، لوگوں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے لیکن وہ دونوں آپ سے (اس سلسلہ میں) بات کرنے سے ڈرے، پھر ایک شخص کھڑا ہوا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کہا کرتے تھے، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں بھولا ہوں، نہ ہی نماز کم کی گئی ہے“، اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں، پھر آپ لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟“، لوگوں نے اشارہ سے کہا: ہاں ایسا ہی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر واپس آئے اور باقی دونوں رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، اس کے بعد «الله أكبر» کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر «الله أكبر» کہہ کر سجدے سے سر اٹھایا پھر «الله أكبر» کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا دوسرا سجدہ کیا پھر «الله أكبر» کہہ کر اٹھے۔ راوی کہتے ہیں: تو محمد سے پوچھا گیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کے بعد پھر سلام پھیرا؟ انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مجھے یہ یاد نہیں، لیکن مجھے خبر ملی ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا ہے: آپ نے پھر سلام پھیرا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1008]
1008۔ اردو حاشیہ:
➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چند ایک مواقع پر نسیان ہوا ہے تاکہ امت کے لئے شریعت کے اصول واضح ہو جائیں۔
➋ ذوالیدین کا نام (خریاق) آیا ہے۔ اور اس قسم کے القاب میں اگر تحقیر مقصود نہ ہو تو مذاحاً جائز ہیں۔
➌ نماز میں زیادہ سہو ہو جائیں تو بھی دو سجدے کرنے ہوں گے، جیسے کہ اس حدیث میں آیا ہے کہ دو ر کعتوں پر سلام پھیرا، پھر تشریف لے گئے اور گفتگو فرمائی۔
➍ نسیان میں کیا جانے والا دعویٰ جھوٹ شمار نہیں ہوتا۔
➎ سجدہ سہو میں تکبیر بھی ہے اور سلام بھی۔
➏ بھول کر کلام کرنے سے نماز باطل ہوتی ہے نہ مکمل سمجھ کر سلام پھیر دینے سے۔
➐ ایسی صورت میں نماز کی بنا کرنا درست ہے۔ یعنی ساری نماز دوبارہ نہیں پڑھی جائے گی بلکہ صرف بقیہ رکعتیں پڑھ کر سہو کے دو سجدے کیے جائیں گے۔
➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چند ایک مواقع پر نسیان ہوا ہے تاکہ امت کے لئے شریعت کے اصول واضح ہو جائیں۔
➋ ذوالیدین کا نام (خریاق) آیا ہے۔ اور اس قسم کے القاب میں اگر تحقیر مقصود نہ ہو تو مذاحاً جائز ہیں۔
➌ نماز میں زیادہ سہو ہو جائیں تو بھی دو سجدے کرنے ہوں گے، جیسے کہ اس حدیث میں آیا ہے کہ دو ر کعتوں پر سلام پھیرا، پھر تشریف لے گئے اور گفتگو فرمائی۔
➍ نسیان میں کیا جانے والا دعویٰ جھوٹ شمار نہیں ہوتا۔
➎ سجدہ سہو میں تکبیر بھی ہے اور سلام بھی۔
➏ بھول کر کلام کرنے سے نماز باطل ہوتی ہے نہ مکمل سمجھ کر سلام پھیر دینے سے۔
➐ ایسی صورت میں نماز کی بنا کرنا درست ہے۔ یعنی ساری نماز دوبارہ نہیں پڑھی جائے گی بلکہ صرف بقیہ رکعتیں پڑھ کر سہو کے دو سجدے کیے جائیں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1008 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1013 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1013- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی دونمازوں میں سے کوئی ایک نماز ہمیں پڑھائی شائد وہ ظہر کی نماز تھی یا شائد عصر کی نماز تھی، ویسے میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں موجود تنے کی طرف تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ٹیک لگالی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس و قت غصے کے عالم میں تھے، جلد باز لوگ مسجد سے باہر نکل گئے وہ یہ کہہ رہے تھے: نماز مختصر ہوگئی ہے۔ نماز مختصر ہوگئی ہے۔ حاضرین میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1013]
فائدہ:
اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ امام اگر نماز میں بھول کر نماز کم پڑھا دے، تو بعد میں خود یاد آ جائے یا کوئی یاد کروا دے تو جو رکعتیں رہ گئی تھیں، ان کی دوبارہ جماعت کروائی جائے اور سلام پھیرنے سے پہلے یا بعد میں سجدہ سہو کر لیا جائے۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انسان تھے۔
اگر کوئی کہہ دے کہ امام صاحب پھول گئے ہیں تو امام صاحب کو مزید تحقیق کر لینی چاہیے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ لمبے ہاتھوں والے کو ذوالید ین کہنا درست ہے۔
اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ امام اگر نماز میں بھول کر نماز کم پڑھا دے، تو بعد میں خود یاد آ جائے یا کوئی یاد کروا دے تو جو رکعتیں رہ گئی تھیں، ان کی دوبارہ جماعت کروائی جائے اور سلام پھیرنے سے پہلے یا بعد میں سجدہ سہو کر لیا جائے۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انسان تھے۔
اگر کوئی کہہ دے کہ امام صاحب پھول گئے ہیں تو امام صاحب کو مزید تحقیق کر لینی چاہیے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ لمبے ہاتھوں والے کو ذوالید ین کہنا درست ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1013 سے ماخوذ ہے۔