حدیث نمبر: 217
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ الصَّبَاحِ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّخَعِيُّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : "تَرَاصُّوا فِي الصُّفُوفِ ، وَلا يَتَخَلَّلْكُمُ الشَّيْطَانُ كَأَوْلادِ الْحَذَفِ ، قِيلَ : وَمَا أَوْلادُ الْحَذَفِ ؟ ، قَالَ : ضَأْنٌ سُودٌ تَكُونُ بِأَرْضِ الْيَمَنِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، إِلا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”صفوں کو ملا کر رکھو، تمہارے درمیان شیطان اس طرح داخل ہوتا ہے جس طرح حذف کا بچہ۔“ کہا گیا: یا رسول اللہ! یہ حذف کیا ہوتا ہے؟ فرمایا: ”سیاہ بکری کا بچہ جو یمن کی سرزمین میں ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصلوٰة / حدیث: 217
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 791، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 5265، 5266، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18917، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 3546، والطبراني فى «الصغير» برقم: 330، وله شواهد من حديث أنس بن مالك ، فأما حديث أنس بن مالك أخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 667، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 815، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12767، 13943، 14233، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2166، 6339، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1545، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 5260، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 2222، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 891 ¤قال الشيخ الألباني: صحيح»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 647 | سنن نسائي: 812 | سنن ابي داود: 543 | سنن ابي داود: 664 | سنن ابن ماجه: 997

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 647 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اذان میں آواز بلند کرنے کا بیان۔`
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر صلاۃ یعنی رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے ان کے لیے صلاۃ بھیجتے یعنی ان کے حق میں دعا کرتے ہیں، اور مؤذن کو جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے بخش دیا جاتا ہے، اور خشک وتر میں سے جو بھی اسے سنتا ہے اس کی تصدیق کرتا ہے، اور اسے ان تمام کے برابر ثواب ملے گا جو اس کے ساتھ صلاۃ پڑھیں گے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 647]
647۔ اردو حاشیہ: ➊ مؤذن لوگوں کو نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے، لہٰذا اسے ان کی نماز کے ثواب کے برابر حصہ ملے گا، بغیر اس کے کہ ان کے ثواب میں کوئی کمی ہو۔
ایمان کی تصدیق قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے یا اذان کے موقع پر۔
«یُصَلُّونَ» اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ فرشتے واسطہ بنتے ہیں، یا فرشتے استغفار کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ خصوصی رحمتیں نازل فرماتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 647 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 812 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´امام صفیں کیسے درست کرے؟`
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کندھوں اور سینوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ۱؎ صفوں کے بیچ میں سے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جاتے، اور فرماتے: اختلاف نہ کرو ۲؎ ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں ۳؎ نیز فرماتے: اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 812]
812۔ اردو حاشیہ: ➊ امام کا فرض ہے کہ صفوں کو درست کرے۔ اگرچہ آج کل ایک ہی سائز کی صفیں بچھی ہوتی ہیں اور قالین وغیرہ پر لائنیں لگی ہوتی ہیں جن کی مدد سے صف سیدھی کرنا بہت آسان ہوتا ہے مگر پھر بھی جہالت اور سستی کی بنا پر صفیں سیدھی کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔
➋ اگلی صفوں سے مراد ہر مسجد اور جماعت کی اگلی صف ہے۔ مساجد کی کثرت کی بنا پر جمع کا لفظ ذکرکیا ورنہ مراد صرف اگلی صف ہے۔ یا ایک سے زائد اگلی صفیں مراد ہو سکتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 812 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 664 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´صفوں کو درست اور برابر کرنے کا بیان۔`
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کے اندر ایک طرف سے دوسری طرف جاتے اور ہمارے سینوں اور مونڈھوں پر ہاتھ پھیرتے تھے (یعنی ہمارے سینوں اور مونڈھوں کو برابر کرتے تھے)، اور فرماتے تھے: (صفوں سے) آگے پیچھے مت ہونا، ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے ان کے دعائیں کرتے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 664]
664۔ اردو حاشیہ:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عملاً صفوں کو برابر کرنا کرانا اس کے انتہائی تاکیدی عمل ہونے کی دلیل ہے۔ نیز چاہیے کہ امام ایسا ہو، جو صاحب علم، باعمل، باوقار اور باہیبت ہو اور خوش اخلاق بھی کہ دینی امور میں اپنے سے چھوٹوں اور بڑوں کی بالفعل اصلاح کر سکے۔ نوعمر، علم و عمل میں کوتاہ اور تنحواہ دار اماموں کے لیے اس انداز سے تعلیم و تربیت بالعموم مشکل ہوتی ہے۔ «والله المستعان»
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 664 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 997 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´پہلی صف کی فضیلت۔`
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر اپنی صلاۃ بھیجتا یعنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے صلاۃ بھیجتے یعنی اس کے حق میں دعا کرتے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 997]
اردو حاشہ:
فائدہ: نیکی کا ہر کام رحمت باری تعالیٰ کاباعث ہے۔
لیکن جن نیکیوں کے بارے میں خوشخبری دی گئی ہے ان کامقام زیادہ بلند اور ان کی اہمیت زیادہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 997 سے ماخوذ ہے۔