حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ مَخْلَدٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخُو أَبِي حُرَّةَ ، وَقُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، وَهَارُونُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الأَهْوَازِيُّ ، كُلُّهُمْ حَدَّثَنِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتَيِ الْعَشِيِّ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ ، فَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ ، فَقَالُوا : أَقَصَرْتَ الصَّلاةَ ؟ ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ ، وَقَامَ سَرَعَانُ النَّاسِ ، وَقَامَ ، فَقَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي الْمَسْجِدِ كَانَ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهَا ، فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يُقَالُ لَهُ : ذُو الْيَدَيْنِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّيهُ ذَا الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقَصَرْتَ الصَّلاةَ أَمْ نَسِيتَ ؟ ، قَالَ : لَمْ أَنَسَ ، وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلاةُ ، فَسَأَلَ الْقَوْمَ ، فَقَالُوا : صَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ مثل رُكُوعِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قُرَّةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَهَارُونَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، إِلا أَبُو دَاوُدَ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر کے بعد کی دو نمازوں میں سے ایک پڑھائی، ظہر کی یا عصر کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، تو جلدی کرنے والے لوگ نکل گئے۔ لوگ کہنے لگے: نماز کم ہو گئی ہے، ان میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، مگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات کرنے سے ڈر رہے تھے، تو جلد باز لوگ اٹھ کر چلے گئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی ایک لکڑی کی طرف اٹھے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ رکھا کرتے تھے، تو لوگوں سے ایک آدمی جس کو ذوالیدین کہتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے ہی کہتے تھے، کہنے لگا: یا رسول اللہ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں بھولا ہوں نہ نماز کم ہوئی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ ذوالیدین ٹھیک کہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور دو رکعت نماز ادا کی، جس طرح پہلے رکوع سجود کرتے تھے یا اس سے بھی زیادہ لمبا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شام کی دونوں یعنی ظہر اور عصر میں سے کوئی نماز پڑھائی مگر صرف دو رکعتیں پڑھا کر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر مسجد کے اگلے حصہ میں لگی ہوئی ایک لکڑی کے پاس اٹھ کر گئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر لکڑی پر رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ کا اثر ظاہر ہو رہا تھا، پھر جلد باز لوگ یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم کر دی گئی ہے، نماز کم کر دی گئی ہے، لوگوں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے لیکن وہ دونوں آپ سے (اس سلسلہ میں) بات کرنے سے ڈرے، پھر ایک شخص کھڑا ہوا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کہا کرتے تھے، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں بھولا ہوں، نہ ہی نماز کم کی گئی ہے“، اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں، پھر آپ لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟“، لوگوں نے اشارہ سے کہا: ہاں ایسا ہی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر واپس آئے اور باقی دونوں رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، اس کے بعد «الله أكبر» کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر «الله أكبر» کہہ کر سجدے سے سر اٹھایا پھر «الله أكبر» کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا دوسرا سجدہ کیا پھر «الله أكبر» کہہ کر اٹھے۔ راوی کہتے ہیں: تو محمد سے پوچھا گیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کے بعد پھر سلام پھیرا؟ انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مجھے یہ یاد نہیں، لیکن مجھے خبر ملی ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا ہے: آپ نے پھر سلام پھیرا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1008]
➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چند ایک مواقع پر نسیان ہوا ہے تاکہ امت کے لئے شریعت کے اصول واضح ہو جائیں۔
➋ ذوالیدین کا نام (خریاق) آیا ہے۔ اور اس قسم کے القاب میں اگر تحقیر مقصود نہ ہو تو مذاحاً جائز ہیں۔
➌ نماز میں زیادہ سہو ہو جائیں تو بھی دو سجدے کرنے ہوں گے، جیسے کہ اس حدیث میں آیا ہے کہ دو ر کعتوں پر سلام پھیرا، پھر تشریف لے گئے اور گفتگو فرمائی۔
➍ نسیان میں کیا جانے والا دعویٰ جھوٹ شمار نہیں ہوتا۔
➎ سجدہ سہو میں تکبیر بھی ہے اور سلام بھی۔
➏ بھول کر کلام کرنے سے نماز باطل ہوتی ہے نہ مکمل سمجھ کر سلام پھیر دینے سے۔
➐ ایسی صورت میں نماز کی بنا کرنا درست ہے۔ یعنی ساری نماز دوبارہ نہیں پڑھی جائے گی بلکہ صرف بقیہ رکعتیں پڑھ کر سہو کے دو سجدے کیے جائیں گے۔
اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ امام اگر نماز میں بھول کر نماز کم پڑھا دے، تو بعد میں خود یاد آ جائے یا کوئی یاد کروا دے تو جو رکعتیں رہ گئی تھیں، ان کی دوبارہ جماعت کروائی جائے اور سلام پھیرنے سے پہلے یا بعد میں سجدہ سہو کر لیا جائے۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انسان تھے۔
اگر کوئی کہہ دے کہ امام صاحب پھول گئے ہیں تو امام صاحب کو مزید تحقیق کر لینی چاہیے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ لمبے ہاتھوں والے کو ذوالید ین کہنا درست ہے۔