حدیث نمبر: 208
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَيَانٍ الْجَوْهَرِيُّ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُعْفِيُّ الْكُوفِيُّ ، ابْنُ أَخِي الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ، عَنِ الأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا أَيْقَظَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَتَوَضَّآ وَصَلَّيَا كُتِبَا مِنَ الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ ، إِلا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی رات کے وقت اپنے گھر والوں کو جگائے، پھر وہ وضو کریں، اور وہ دونوں نماز ادا کریں تو وہ دونوں اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرنے والے مردوں اور عورتوں میں لکھے جائیں گے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1451 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نماز تہجد پڑھنے کی ترغیب دینے کا بیان۔`
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو رات کو بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے پھر دونوں دو دو رکعتیں پڑھیں تو وہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں اور ذکر کرنے والی عورتوں میں لکھے جائیں گے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1451]
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو رات کو بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے پھر دونوں دو دو رکعتیں پڑھیں تو وہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں اور ذکر کرنے والی عورتوں میں لکھے جائیں گے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1451]
1451. اردو حاشیہ: یہ حدیث بھی پیچھے گزر چکی ہے۔ (1309)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1451 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1309 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تہجد (قیام اللیل) کا بیان۔`
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب آدمی اپنی بیوی کو رات میں جگائے اور وہ دونوں نماز پڑھیں تو وہ دونوں ذاکرین اور ذاکرات میں لکھے جاتے ہیں۔“ ابن کثیر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور نہ اس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے اسے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا کلام قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن مہدی نے سفیان سے روایت کیا ہے اور میرا گمان ہے کہ اس میں انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی حدیث موقوف ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1309]
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب آدمی اپنی بیوی کو رات میں جگائے اور وہ دونوں نماز پڑھیں تو وہ دونوں ذاکرین اور ذاکرات میں لکھے جاتے ہیں۔“ ابن کثیر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور نہ اس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے اسے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا کلام قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن مہدی نے سفیان سے روایت کیا ہے اور میرا گمان ہے کہ اس میں انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی حدیث موقوف ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1309]
1309. اردو حاشیہ: فائدہ: اس حدیث میں گویا آیت کریمہ ﴿وَالذّٰكِرينَ اللَّهَ كَثيرًا وَالذّٰكِرٰتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَغفِرَةً وَأَجرًا عَظيمًا﴾... سور ۃ الاحزاب35 ’’اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے مرداور اللہ کا بہت زیادہ ذکرکرنے والی عورتوں کے لیے للہ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار فرمایا ہے۔‘‘ کی تفسیر کی طرف اشارہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1309 سے ماخوذ ہے۔