حدیث نمبر: 206
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ ، بِمَكَّةَ سَنَةَ ثَلاثٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ ، وَفِيهَا مَاتَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلِ، عَنِ الْمَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشِ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا بَصَقْتَ فِي الصَّلاةِ فَابْصُقْ عَنْ يَسَارِكِ ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِكَ الْيُسْرَى "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلِ ، إِلا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، وَمَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ لِمَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ : اتَّقِ اللَّهَ ، فَوَضَعَ خَدَّهُ عَلَى الأَرْضِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز میں تھوکو تو بائیں جانب یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکو۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصلوٰة / حدیث: 206
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 727 | سنن ترمذي: 571 | سنن ابي داود: 478 | سنن ابن ماجه: 1021

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1021 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نمازی کے تھوکنے کا بیان۔`
طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھو تو اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکو، بلکہ اپنے بائیں جانب یا قدم کے نیچے تھوک لو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1021]
اردو حاشہ:
فوائدو مسائل: (1)
نماز کے دوران میں سامنے کی طرف تھوکنا ادب کے منافی ہے۔
رسول اللہﷺ نے اس پر سخت ناراضی کا اظہار فرمایا ہے۔
دیکھئے: (سنن ابن ماجه، المساجد والجماعات باب کراھیة النخامة فی المسجد، حدیث: 761 تا 764)

(2)
دایئں طرف بھی احترام والی سمت ہے اس لئے اس طرف بھی نہیں تھوکنا چاہیے۔
بایئں طرف اگردوسرا نمازی کھڑا ہو تو اس طرف بھی تھوکنے سے پرہیز کرنا چاہیے اگر ادھر کوئی نہ ہو تو تھوکنا جائز ہے۔

(3)
مسجد میں بایئں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوکنا اس صورت میں جائز ہے۔
جب مسجد کی زمین اس قسم کی ہو جو رطوبت کو جذب کرسکتی ہو ورنہ مسجد کو آلودہ کرنا جائز نہیں۔
خصوصا جب کہ چٹائی یا قالین پر نماز پڑھ رہا ہو تو اسے آلودہ کرنا کسی حال میں بھی جائز نہیں۔
اس صورت میں رومال استعمال کرنا چاہیے جیسے کہ اگلی حدیث میں صراحت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1021 سے ماخوذ ہے۔