حدیث نمبر: 201
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ كَمُّونَةَ الْمِصْرِيَّةِ الْمَعَافِرِيُّ ، أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ حُمَيْدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ ، حَدَّثَه ُأَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى تَفَطَّرَ قَدَمَاهُ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَلا أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ؟ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ ، إِلا أَبوُ صَخْرٍ ، وَلا عَنْ أَبِي صَخْرٍ ، إِلا حَيْوَةُ ، تَفَرَّدَ بِهِ وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رَاشِدٍ ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، وَنَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطِ ، عَنْ عُرْوَةَترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اتنا قیام فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک سوج گئے۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اس طرح کرتے ہیں حالانکہ آپ کے گناہ پہلے ہی اللہ نے معاف کر دیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4837 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4837. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ رات کی نماز میں اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ کے پاؤں مبارک پھٹ جاتے۔ حضرت عائشہ ؓ نے (ایک مرتبہ) عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اتنی زیادہ مشقت کیوں اٹھاتے ہیں، اللہ تعالٰی نے تو آپ کی اگلی پچھلی تمام لغزشیں معاف کر دی ہیں؟ آپ نے جواب دیا: ’’تو کیا پھر میں اللہ تعالٰی کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟‘‘ آخری عمر میں جب آپ کا جسم فربہ ہو گیا تو آپ یہ نماز بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔ جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو کر کچھ قراءت فرماتے، پھر رکوع کرتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4837]
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کے نازل ہونے سے بہت خوشی ہوئی، چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب آپ حدیبیہ سے واپس مدینے جارہے تھے، آپ نے فرمایا: ’’مجھ پر یہ آیت اُتری ہے جو مجھے زمین کی ساری دولت سے زیادہ پیاری ہے۔
‘‘ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مبارک ہو، مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے تو وضاحت فرما دی جو آپ کے ساتھ وہ معاملہ کرے گا مگر ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوگا تو اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں: ’’تاکہ مومن مرد اور مومن عورتوں کو ایسے باغات میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کی بُرائیاں دور کرے اور یہ اللہ کے نزدیک عظیم کامیابی ہے۔
‘‘ (الفتح: 5: 48، وجامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3263)
2۔
فتح مکہ ایک دنیوی نعمت ہے اور اس کے ساتھ اخروی نعمت مغفرت کا ذکر فرمایا کیونکہ فتح مکہ حج کا سبب بنی اورحج، گناہوں کی مغفرت کے لیے ایک عظیم سبب ہے، پھر فتح مبین کے بعد لوگ جوق درجوق اسلام میں داخل ہوئے اور اسلام کی دعوت کا کام عام ہوا۔
اس سے آپ کی زندگی کا مقصد پورا ہوا۔
واللہ المستعان۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کے نازل ہونے سے بہت خوشی ہوئی، چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب آپ حدیبیہ سے واپس مدینے جارہے تھے، آپ نے فرمایا: ’’مجھ پر یہ آیت اُتری ہے جو مجھے زمین کی ساری دولت سے زیادہ پیاری ہے۔
‘‘ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مبارک ہو، مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے تو وضاحت فرما دی جو آپ کے ساتھ وہ معاملہ کرے گا مگر ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوگا تو اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں: ’’تاکہ مومن مرد اور مومن عورتوں کو ایسے باغات میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کی بُرائیاں دور کرے اور یہ اللہ کے نزدیک عظیم کامیابی ہے۔
‘‘ (الفتح: 5: 48، وجامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3263)
2۔
فتح مکہ ایک دنیوی نعمت ہے اور اس کے ساتھ اخروی نعمت مغفرت کا ذکر فرمایا کیونکہ فتح مکہ حج کا سبب بنی اورحج، گناہوں کی مغفرت کے لیے ایک عظیم سبب ہے، پھر فتح مبین کے بعد لوگ جوق درجوق اسلام میں داخل ہوئے اور اسلام کی دعوت کا کام عام ہوا۔
اس سے آپ کی زندگی کا مقصد پورا ہوا۔
واللہ المستعان۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4837 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2820 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نمازپڑھتےاس قدر قیام کرتے،حتی کہ آپ کے پاؤں پھٹ جاتے،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا، اے اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اس قدر مشقت برداشت کرتے ہیں، حالانکہ اللہ نے آپ کے اگلے اور پچھلے ذنب معاف کیے جا چکے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا:"اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا!توکیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7126]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ذنب کا اطلاق بہت وسیع ہے، جو کام کسی کی شان ومقام سے فروتر ہو، یا خلاف اولیٰ ہو، اس کو بھی ''ذنب '' کہتے ہیں اور اس سے بڑھ کر کفروشرک تک بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، یہاں مراد وہ کام ہیں، جو آپ کے بلندوبالا مقام سے فروتر تھے، یا خلاف اولیٰ تھے اور بقول قاضی سلیمان رحمہُ اللہ ُاس سے مراد وہ الزامات ہیں جو ہجرت سے پہلے اور ہجرت کے بعد آپ پر لگائے گئے تھے، تفصیل کے لیے رحمتہ للعالمین میں دیکھئے، پیر کرم شاہ نے یہ معنی نقل کیا، لیکن قاضی صاحب کا نام نہیں لیا۔
(ضیاء القرآن ج5 ص 532 تا533)
یہ معنی کرنا تکلف سے خالی نہیں ہے، کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ ﴿١٤﴾ (الشعراء: 14)
سے استدلال کیا ہے، اور اس ذنب کو موسیٰ علیہ السلام خود ظلم سے تعبیر کرکے معافی کی درخواست کرتے ہیں قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴿١٦﴾ (سورة القصص: 16)
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عبادت میں اس قدر مشقت برداشت کرنا مغفرت کے شکر کے طور پر تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ کرم وفضل فرمایا ہے کہ میرے تمام ذنب معاف فرمادیے ہیں تو مجھے اس نعمت و کرم کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
اس سے معلوم ہوا شکر جس طرح زبان سے ادا کیا جاتا ہے، اسی طرح عمل سے بھی شکر ادا کیا جاتا ہے، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا (سورة سبا: 13)
(ضیاء القرآن ج5 ص 532 تا533)
یہ معنی کرنا تکلف سے خالی نہیں ہے، کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ ﴿١٤﴾ (الشعراء: 14)
سے استدلال کیا ہے، اور اس ذنب کو موسیٰ علیہ السلام خود ظلم سے تعبیر کرکے معافی کی درخواست کرتے ہیں قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴿١٦﴾ (سورة القصص: 16)
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عبادت میں اس قدر مشقت برداشت کرنا مغفرت کے شکر کے طور پر تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ کرم وفضل فرمایا ہے کہ میرے تمام ذنب معاف فرمادیے ہیں تو مجھے اس نعمت و کرم کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
اس سے معلوم ہوا شکر جس طرح زبان سے ادا کیا جاتا ہے، اسی طرح عمل سے بھی شکر ادا کیا جاتا ہے، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا (سورة سبا: 13)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2820 سے ماخوذ ہے۔