حدیث نمبر: 2
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَنْطَاكِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الأَنْطَاكِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا ، وَخُلُقُ الإِسْلامِ الْحَيَاءُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَالِكٍ ، إِلا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ سَهْلٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دین کا ایک خلق ہوتا ہے اور اسلام کا خلق حیاء ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4181 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´شرم و حیاء کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیاء ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4181]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیاء ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4181]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔
شیخ البانی رحمة الله علیہ نے اس پر تفصیلاً بحث کی ہےجس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت اور آئندہ آنے والی روایت دیگر شواہد کی بنا پر حسن درجے تک پہنچ جاتی ہیں نیز امام ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی انھیں حسن قرار دیا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة للالباني رقم: 409)
(2)
حیا بہت سی اخلاقی خرابیوں سے محفوظ رکھتی ہے اس لیے اسلام میں اس کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
(3)
حیا کو قائم رکھنے کے لیے پردہ کرنے اور کسی کے گھر جاتے وقت اجازت لینے کے احکام دیے گئے ہیں۔
(4)
شریعت اسلامی میں ایسے احکامات دیے گئے ہیں جن سے شادی کرنا اور شادی شدہ زندگی گزارنا آسان ہوجائے اور طلاق کے راستے میں رکاوٹیں قائم کی گئی ہیں۔
اس کا مقصد بھی عٖت وعصمت کو قائم رکھنا ہے۔
(5)
اس مقصد کے لیے بدکاری پر سخت سزا مقرر کی گئی ہے اسی طرح کسی پر بد کاری کا جھوٹا الزام لگانے کی بھی عبرت ناک سزا مقرر کی گئی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔
شیخ البانی رحمة الله علیہ نے اس پر تفصیلاً بحث کی ہےجس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت اور آئندہ آنے والی روایت دیگر شواہد کی بنا پر حسن درجے تک پہنچ جاتی ہیں نیز امام ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی انھیں حسن قرار دیا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة للالباني رقم: 409)
(2)
حیا بہت سی اخلاقی خرابیوں سے محفوظ رکھتی ہے اس لیے اسلام میں اس کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
(3)
حیا کو قائم رکھنے کے لیے پردہ کرنے اور کسی کے گھر جاتے وقت اجازت لینے کے احکام دیے گئے ہیں۔
(4)
شریعت اسلامی میں ایسے احکامات دیے گئے ہیں جن سے شادی کرنا اور شادی شدہ زندگی گزارنا آسان ہوجائے اور طلاق کے راستے میں رکاوٹیں قائم کی گئی ہیں۔
اس کا مقصد بھی عٖت وعصمت کو قائم رکھنا ہے۔
(5)
اس مقصد کے لیے بدکاری پر سخت سزا مقرر کی گئی ہے اسی طرح کسی پر بد کاری کا جھوٹا الزام لگانے کی بھی عبرت ناک سزا مقرر کی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4181 سے ماخوذ ہے۔