حدیث نمبر: 197
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّارُ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَبْحَابِيُّ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلابِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، فَلَمْ أَرَهُمْ يَزِيدُونَ عَلَى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَطَرٍ ، إِلا هَمَّامٌ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سفر کیا تو میں نے ان کو کبھی نہیں دیکھا کہ وہ دو دو رکعت سے زیادہ پڑھتے ہوں۔

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصلوٰة / حدیث: 197
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1101، 1102، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 689، 689، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 947، 1255، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2753، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1457، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1929، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1223، والترمذي فى «جامعه» برقم: 544، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1071، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 5591، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4766، 4852، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 1555، والطبراني فى «الصغير» برقم: 153»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1655 | سنن ابي داود: 1223

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1655 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1655. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر وعمر رضوان اللہ عنھم اجمعین منیٰ میں دو دورکعت پڑھتے تھے۔ اسی طرح حضرت عثمان ؓ نے بھی اپنے ابتدائی دورخلافت میں دو دو رکعت پڑھنے کااہتمام کیاتھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1655]
حدیث حاشیہ: باب کا مطلب یہ کہ منیٰ میں بھی نماز قصر کرنی چاہئے۔
یہ باب مع ان احادیث کے پیچھے بھی گذر چکا ہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے چھٹے سال منیٰ میں نماز پوری پڑھی، لیکن دوسرے صحابہ نے ان کا یہ فعل خلافت سنت سمجھا۔
حضرت عثمان ؓ کے پوری پڑھنے کی بہت سی وجوہ بیان کی گئی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ آپ سفر میں قصر کرنا اور پوری نماز پڑھنا ہر دو امر جائز جانتے تھے، اس لیے آپ نے جواز پر عمل کیا۔
منیٰ کی وجہ تسمیہ اور اس کا پورا بیان پہلے گذر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1655 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1655 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1655. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر وعمر رضوان اللہ عنھم اجمعین منیٰ میں دو دورکعت پڑھتے تھے۔ اسی طرح حضرت عثمان ؓ نے بھی اپنے ابتدائی دورخلافت میں دو دو رکعت پڑھنے کااہتمام کیاتھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1655]
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ عنوان اور اس میں ذکر کردہ تینوں احادیث کتاب تقصیر الصلاۃ میں گزر چکی ہیں۔
امام بخاری ؒ نے استاد کی تبدیلی کے ساتھ یہاں بیان فرمایا ہے۔
(2)
حضرت عثمان ؓ نے اپنی خلافت کے چھٹے سال منیٰ میں نماز پوری پڑھنا شروع کر دی۔
اس کی وجوہات ہم پہلے بیان کر آئے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے نزدیک سفر میں قصر کرنا اور پوری نماز ادا کرنا دونوں امر جائز تھے، اس لیے انہوں نے کسی مصلحت کے پیش نظر جواز پر عمل کیا۔
اگرچہ کچھ صحابہ کرام ؓ نے ان کے اس عمل سے اختلاف کیا جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سرفہرست ہیں۔
بہرحال حجاج کرام کو چاہیے کہ دوران حج منیٰ میں ظہر، عصر اور عشاء کی نمازیں قصر پڑھیں، البتہ نماز فجر اور نماز مغرب پوری ادا کریں، تاہم مغرب کی سنتیں ادا نہیں کی جائیں گی۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1655 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1223 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سفر میں نفل پڑھنے کا بیان۔`
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا تو آپ نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ (نماز کی حالت میں) کھڑے ہیں، پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ نفل پڑھ رہے ہیں، تو آپ نے کہا: بھتیجے! اگر مجھے نفل ۱؎ پڑھنی ہوتی تو میں اپنی نماز ہی پوری پڑھتا، میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا لیکن آپ نے دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، مجھے (سفر میں) عثمان رضی اللہ عنہ کی رفاقت بھی ملی لیکن انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور اللہ عزوجل فرما چکا ہے: «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة‏» تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر /حدیث: 1223]
1223۔ اردو حاشیہ:
سفر میں فرائض سے پہلے یا بعد سنن راتبہ بحثیت سنن موکدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور خلفائے راشدین کے عمل سے ثابت نہیں ہیں، سوائے فجر کی سنتوں کے۔ علاوہ ازیں اگر کوئی عام نفل کی حیثیت سے پڑھنا چاہے تو ممنوع نہیں ہے، جیسے کہ اگے باب کی احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوران سفر میں اپنی سواری پر بھی نوافل پڑھا کرتے تھے۔ اس مسئلے کا تعلق انسان کے اپنے شوق سے ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1223 سے ماخوذ ہے۔