حدیث نمبر: 190
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ عُقْدَةَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ ، وَلا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، إِلا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ أَبُو قِلابَةَ ، وَاسْمُ أَبِي الْمَلِيحِ : عَامِرٌ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بلا وضو کسی کی نماز اور خیانت والا صدقہ قبول نہیں فرماتا۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصلوٰة / حدیث: 190
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 59 | سنن نسائي: 139 | سنن نسائي: 2525 | سنن دارمي: 709 | سنن ابن ماجه: 271

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 59 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بغیر وضو کے نماز نہیں ہوتی`
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ، وَلَا صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چوری کے مال سے کوئی صدقہ قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی بغیر وضو کے کوئی نماز . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 59]
فوائد و مسائل:
➊ خیانت، چوری، ڈاکہ، رشوت اور بھتہ وغیرہ کے مال سے دیا جانے والا صدقہ قبول نہیں ہوتا۔
➋ نماز کے لیے وضو کرنا فرض ہے بغیر وضو کے نماز نہیں ہوتی، اگر پانی استعمال نہ کیا جا سکتا ہو یا مہیا نہ ہو تو تیمم کرنا فرض ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 59 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 139 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´وضو کی فرضیت کا بیان۔`
ابوالملیح کے والد (اسامہ بن عمیر) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بغیر وضو کے کوئی نماز قبول نہیں کرتا، اور نہ خیانت کے مال کا صدقہ قبول کرتا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 139]
139۔ اردو حاشیہ: ➊ نماز قبول نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز صحیح نہیں ہوتی، فریضہ ادا نہیں ہوتا اور ثواب بھی نہیں ہوتا، لہٰذا وضو اور جنابت کی حالت میں غسل نماز کے لیے شرط ہے۔ وضو کے بغیر نماز کا شرعاً کوئی وجود نہیں۔
➋ غلول خفیہ طریقے سے خیانت کو کہتے ہیں۔ یہاں مطلق خیانت مراد ہے، یعنی حرام طریقے سے حاصل شدہ مال کیونکہ ہر حرام کے حصول میں کسی نہ کسی خیانت کا ارتکاب ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 139 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2525 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´چوری کے مال میں سے صدقہ دینے کا بیان۔`
ابوالملیح کے والد اسامہ بن عمیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل بغیر پاکی کے کوئی نماز قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی حرام مال سے کوئی صدقہ قبول کرتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2525]
اردو حاشہ: قبولیت کا مطلب ثواب ہے، یعنی حرام مال دے صدقہ کرنے والے کو ثواب نہ ملے گا، البتہ اس سے فقر کو فائدہ ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ حرام مال اس شخص کے لیے ناجائز ہے جس نے ناحق حاصل کیا، تاہم فقیر چونکہ اس بات سے ناواقف ہے کہ صدقہ کرنے والے نے صدقہ حرام مال سے کیا ہے یا حلال مال سے، اس لیے اس کے لیے اس کا استعمال جائز ہوگا، لیکن علم رکھتے ہوئے کسی حرام کی کمائی سے صدقہ لینا اس کے لیے جائز نہ ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2525 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 271 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´اللہ تعالیٰ بغیر وضو کی نماز کو قبول نہیں کرتا۔`
اسامہ بن عمیر ہذلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کوئی بھی نماز بغیر وضو کے قبول نہیں فرماتا، اور نہ چوری کے مال سے کوئی صدقہ قبول کرتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 271]
اردو حاشہ: (1)
پاکیزگی سے مراد وضو اور غسل ہے۔
نماز کے لیے شرط ہے کہ نمازی حدث اصغر، حدث اکبر اور ظاہری نجاست سے پاک ہو۔
ظاہری نجاست دھونےسےحدث اصغر وضو اور حدث اکبر غسل سے دور ہوتا ہے۔
حدث سے مراد انسان کا ایسی حالت میں ہونا ہے جس سے وضو یا غسل کرنا ضروری ہوجیسے باوضو شخص کی ہوا خارج ہوجائے یا وہ قضائے حاجت کرلے تو اس کا وضو برقرار نہیں رہتا۔
یہ حالت حدث اصغر کہلاتی ہے۔
اور اگر وہ بیوی سے ہم بستر ہوا یا ویسے ہی احتلام ہوگیا ہے تو یہ حالت حدث اکبر کہلاتی ہے۔
ایسی حالت میں غسل ضروری ہے۔
مزید تفصیل آئندہ ابواب میں آئے گی۔

(2)
قبول نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر ثواب نہیں ملتا اور اگر وہ فرض نماز ہے تو انسان کے ذمہ اس کی ادائیگی باقی رہتی ہے۔

(3)
خیانت کے مال کے لیے حدیث میں لفظ غلُوُل استعمال ہوا ہےاس سے مراد مال غنیمت کے مجاہدین میں باقاعدہ تقسیم ہونے سے پہلے اگر کوئی مجاہد اس میں سے کوئی چیز اپنے قبضے میں رکھتا ہے تو یہ مسلمانوں کے اجتماعی مال میں خیانت ہے جو بڑا گناہ ہے۔
اس طریقے سے حاصل ہونے والا مال حرام کمائی میں شامل ہےلہذا اس کو اگر نیکی کے کسی کام میں خرچ کیا جائے تو وہ اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں یعنی جس طرح مال کو خرچ کرتے وقت حلال وحرام مصرف کا خیال رکھنا ضروری ہے اسی طرح مال کے حصول میں بھی حلال و حرام میں تمیز کرنا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 271 سے ماخوذ ہے۔