حدیث نمبر: 185
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الرَّازِيُّ الإِسْفَذَنِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الأَحْنَفِ ابْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ ، حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ ، إِلا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت ہمیشہ فطرت پر رہے گی، جب تک وہ ستاروں کے سامنے آنے تک نمازِ مغرب کو مؤخر نہ کرے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 689 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نماز مغرب کا وقت۔`
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میری امت ہمیشہ فطرت (دین اسلام) پر رہے گی، جب تک وہ مغرب کی نماز میں اتنی تاخیر نہ کرے گی کہ تارے گھنے ہو جائیں۔“ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یحییٰ کو کہتے سنا: اس حدیث کے بارے میں اہل بغداد نے اختلاف کیا، چنانچہ میں اور ابوبکر الاعین عوام بن عباد بن عوام کے پاس گئے، تو انہوں نے اپنے والد کا اصل نسخہ نکالا تو اس میں یہ حدیث موجود تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 689]
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میری امت ہمیشہ فطرت (دین اسلام) پر رہے گی، جب تک وہ مغرب کی نماز میں اتنی تاخیر نہ کرے گی کہ تارے گھنے ہو جائیں۔“ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یحییٰ کو کہتے سنا: اس حدیث کے بارے میں اہل بغداد نے اختلاف کیا، چنانچہ میں اور ابوبکر الاعین عوام بن عباد بن عوام کے پاس گئے، تو انہوں نے اپنے والد کا اصل نسخہ نکالا تو اس میں یہ حدیث موجود تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 689]
اردو حاشہ: (1)
نماز اول وقت پڑھنا افضل ہے خاص کرکے مغرب کی نماز میں تاخیر کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ اس کا وقت دوسری نمازوں کی نسبت کم ہوتا ہے۔
(2)
نمازوں کو تاخیر سے پڑھنا بھی دین سے ایک قسم کی روگردانی ہے۔
(3)
بعض زیادہ روشن ستارے ایسے بھی ہیں کہ سورج غروب ہوتے ہی ظاہر ہوجاتے ہیں اس لیے چند ستاروں کا نظر آ جانا تاخیر کی علامت نہیں جب تک ستارے کافی تعداد میں نہ نکل آئیں۔
(4) (تَشْتَبِكَ)
کا لفظ شَبْكَة (جال)
سے بنایا گیا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ستارے اس کثرت سے نظر آنے لگیں کہ آسمان پر ستاروں کا جال بچھ جائے۔
نماز اول وقت پڑھنا افضل ہے خاص کرکے مغرب کی نماز میں تاخیر کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ اس کا وقت دوسری نمازوں کی نسبت کم ہوتا ہے۔
(2)
نمازوں کو تاخیر سے پڑھنا بھی دین سے ایک قسم کی روگردانی ہے۔
(3)
بعض زیادہ روشن ستارے ایسے بھی ہیں کہ سورج غروب ہوتے ہی ظاہر ہوجاتے ہیں اس لیے چند ستاروں کا نظر آ جانا تاخیر کی علامت نہیں جب تک ستارے کافی تعداد میں نہ نکل آئیں۔
(4) (تَشْتَبِكَ)
کا لفظ شَبْكَة (جال)
سے بنایا گیا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ستارے اس کثرت سے نظر آنے لگیں کہ آسمان پر ستاروں کا جال بچھ جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 689 سے ماخوذ ہے۔