معجم صغير للطبراني
كتاب المساجد— مساجد کا بیان
باب: پالتو گدھے کے گوشت کی حرمت اور لہسن و پیاز کی کراہیت کا بیان
حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَاتِبُ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ : " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَبْنَا حَمْرَاءَ مِنْ حُمْرِ الْيَهُودِ ، فَذَبَحْنَاهَا ، وَطَبَخْنَاهَا ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا ، فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنَّ لُحُومَ حُمْرَ الإِنْسِ لا تَحِلُّ ، حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَصَابُوا فِي حِيطَانِهَا بَصَلا وَثُومًا ، فَأَكَلُوا مِنْهَا وَالْقَوْمُ جِيَاعٌ فَرَاحُوا ، فَإِذَا رِيحُ الْمَسْجِدِ بَصَلٌ وَثُومٌ ، فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ ، فَلا يَقْرَبْنَا فِي مَسْجِدِنَا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ بَحِيرٍ ، إِلا بَقِيَّةُ ، وَلا يُرْوَى عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ بَقِيَّةَ بْنَ الْوَلِيدِ ، يَقُولُ اسْمُ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ : لاشُومَةُ بْنُ جُرْثُومَةَسیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر جنگ کی تو ہمیں یہود کے گھریلو گدھوں میں سے کچھ گدھے ملے، تو ہم نے ان کو ذبح کر کے پکا لیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ یہ منادی کرے کہ گھریلو گدھوں کے گوشت حلال نہیں ہیں، انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا ہے۔ اس زمین کے باغوں میں انہیں ثوم یعنی لہسن اور پیاز ملا، لوگ بھوکے تھے تو انہوں نے اسے کھایا، اور آرام کرنے لگے تو مسجد ثوم کی بو اور پیاز سے بھر گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس خبیث درخت سے کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب بھی نہ آئے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’خبردار! کچلیوں والا درندہ اور پالتو گدھا حلال نہیں ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الأطعمة، حدیث: 3804) (2)
اگرچہ مؤخر الذکر حضرات کی روایت میں گھریلو گدھے کی حرمت کا ذکر نہیں ہے، تاہم دیگر روایات میں وضاحت ہے کہ گھریلو گدھا بھی حرام ہے۔
واللہ أعلم
بس جس چیز سے شارع نے سکوت کیا وہ معاف ہے جیسے دوسری حدیث میں ہے۔
اسی بنا پر عطاء، طاؤس اور زہری اور کئی تابعین نے کہا کہ گدھی کا دودھ حلال ہے۔
جو لوگ حرام کہتے ہیں وہ یہ دلیل بیان کرتے ہیں کہ دودھ گوشت سے پیدا ہوتا ہے اور جب گوشت کھانا حرام ہو تو دودھ بھی حرام ہوگا۔
میں (وحیدالزماں)
کہتا ہوں کہ یہ قیاس فاسد ہے آدمی کا گوشت کھانا حرام ہے مگر اس کا دودھ حلال ہے۔
(وحیدی)
(1)
درندوں کا پتہ حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کو کھانے سے منع فرمایا ہے، حدیث کے یہ الفاظ درندے کے تمام اجزاء کے بارے میں ہیں کہ وہ حرام ہیں۔
ان میں پتا بھی شامل ہے۔
اس سے یہ لازم آتا ہے کہ گدھی کا دودھ بھی حرام ہے کیونکہ گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا گیا ہے اور دودھ بھی گوشت سے نکلتا ہے جیسا کہ ابو ضمرہ کی روایت میں ہے کہ دودھ گوشت سے نکلتا ہے۔
جمہور کے نزدیک گدھی کا دودھ حرام ہے۔
(فتح الباري: 10/307) (2)
گوشت پر قیاس کرتے ہوئے گدھی کے دودھ کو حرام کہنا محل نظر ہے کیونکہ یہ قیاس مع الفارق ہے جیسا کہ آدمی کا گوشت کھانا حرام ہے لیکن عورت کا دودھ پینا جائز ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ امام زہری رحمہ اللہ کا رجحان گدھی کے دودھ کے متعلق یہ ہے کہ اس کا استعمال جائز ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس کے متعلق کوئی حکم یا ممانعت نہیں پہنچی، لہذا جس چیز کے متعلق شارع علیہ السلام نے سکوت اختیار کیا وہ صاف ہے جیسا کہ دوسری احادیث میں اس کی وضاحت ہے، اس بنا پر متعدد تابعین نے گدھی کے دودھ کو حلال کہا ہے۔
واضح رہے کہ مالیخولیا کے مریض کے سر پر اگر گدھی کے دودھ سے مالش کی جائے تو صحت یاب ہو جاتا ہے۔
واللہ أعلم
1)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے اور ہر چنگال دار پرندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔
(صحیح مسلم، الصید و الذبائح، حدیث: 4994 (1934)
وہ درندے جو نیش دار ہوں، یعنی کچلیوں سے شکار کرنے والے ہوں، جیسے: شیر، بھیڑیا اور چیتا وغیرہ حرام ہیں۔
اسی طرح ہر وہ پرندہ جو چنگال دار ہو، یعنی اپنے پنجوں سے شکار پکڑے اور چیز پھاڑ کر کھائے، جیسے: شاہین، باز اور گِدھ وغیرہ بھی حرام ہیں لیکن ان سے لگڑ بگڑ کو مستثنیٰ کیا گیا ہے، حالانکہ وہ کچلی والا ہے۔
دراصل ہر درندے کی حرمت کی دو وجہیں ہیں: ایک کچلیوں کا ہونا دوسرا اس کا حملہ آور ہونا۔
درندگی کا وصف کچلیاں ہونے کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے، اس لیے کہ دونوں وصف رکھنے والے درندے کھانے سے درندگی والی قوت آ جاتی ہے۔
لگڑ بگڑ کچلی والا تو ہے لیکن اس میں درندگی کا وصف نہیں ہے، اس لیے اسے حلال قرار دیا گیا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شکار قرار دیا ہے جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
(سنن أبي داود، الأطعمة، حدیث: 3801) (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: سنن ابی داود (اردو)
حدیث نمبر: 3801 کے فوائد و مسائل، طبع دارالسلام)
ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی دانت والے درندے سے منع فرمایا ۱؎۔ اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1477]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دانت (یعنی کچلیوں) سے شکار اور چیر پھاڑ کرنے والے جانور مثلاً شیر، چیتا، بھیڑیا، ہاتھی، اور بندر وغیرہ یہ سب حرام ہیں، اسی طرح ان کے کیے ہوئے شکار اگر مرگئے ہوں تو ان کا کھانا جائز نہیں۔
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت (سے پھاڑ نے) والے تمام درندوں اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4347]
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی (نوک دار دانت) والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ زہری کہتے ہیں کہ شام جانے سے پہلے میں نے یہ حدیث نہیں سنی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3232]
فوائد و مسائل:
(1)
کچلی نو کیلے تیز دانت کو کہتے ہیں۔
انسانوں میں یہ دانت سامنے کے چار دانتوں کے بعد اور ڈاڑھوں سے پہلے ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف ہوتا ہے اوپر بھی اور نیچے بھی۔
چرندوں میں یہ دانت نہیں ہوتے۔
(2)
درندوں میں یہ دانت دوسرے دانتوں کی نسبت واضح طور پر بڑے لمبے ہوتے ہیں جیسے کتے اور بلی وغیرہ میں۔
(3)
ان دانتوں (کچلیوں)
کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ یہ جانور درندوں کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے خواہ وہ عملی طور پر شکار نہ کرتا ہو یا بہت کم کرتا ہو۔
(4)
ممکن ہے کہ کوئی حدیث صحیح ہونے کے باوجود ایک امام کو معلوم نہ ہو اس صورت میں اس کےلیے اجتہاد کرنا درست ہے۔
بعد میں اگر معلوم ہو جائے کہ یہ اجتہاد درست نہ تھا تو امام کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا تاہم بعد والوں کے لیے اس اجتہاد پر عمل کرنا جائز نہیں ہو گا۔
«. . . عن ابى ثعلبة الخشني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن اكل كل ذي ناب من السباع . . .»
”. . . سیدنا ابوثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے تمام درندوں کے کھانے سے منع فرمایا ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 402]
[و اخرجه البخاري 5530، و مسلم 1932/14، من حديث مالك به]
تفقہ
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کتا، بلی، شیر، چیتا، بھیڑیا، لگڑبھگا، بچھو، لومڑی، بندر اور تمام درندے حرام ہیں۔ یہاں پر ممانعت ممانعت تحریم ہے جیسا کہ روایت یحییٰ بن یحییٰ اور حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔ دیکھئے: [ح113]
➋ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث کے بارے میں امام مالک فرماتے ہیں «وهو الامر عندنا» اور ہمارے ہاں اسی پر عمل ہے۔ [المؤطآ 496/2] نيز ديكهئے: آنے والي حديث [113]
➌ اس حدیث کی رو سے ضبع (لگڑبھگے، بجو) کی حلت والی روایت منسوخ ہے۔
➍ ایک روایت میں آیا ہے کہ «نَهَى رَسُوْلُ اللهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ جُلُوْدِ السِّبَاعِ أَنْ تُفْرَشَ» ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالیں بچھانے سے منع فرمایا ہے۔“ [السنن الكبريٰ للبيهقي 1/21 وسنده حسن]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالیں پہننے اور ان پر سواری کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داؤد: 4131 مطولاً وسنده حسن]
اس سے معلوم ہوا کہ بعض الناس کا یہ قول کہ ”کتے کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے اور اس کی جائے نماز اور ڈول بنانا درست ہے۔“ غلط ہے اور یہ قول اس حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
➎ ہاتھی بھی ذوناب ہونے کی وجہ سے حرام ہے جیسا کہ حدیث [52] کے تحت گزر چکا ہے۔
➏ حدیث قرآن کی تشریح، بیان اور تفسیر ہے۔
➐ خاص دلیل کے مقابلے میں عام دلیل پیش کرنا غلط ہے۔
➑ عام کی تخصیص دلیل کے ساتھ جائز ہے۔
➒ حدیث حجت ہے۔
➓ حدیث کا انکار کرنے والا منکر حدیث ہے، چاہے وہ اپنے آپ کو اہل قرآن اور پکا مسلم وغیرہ کیوں نہ کہتا رہے۔
”ناب“ کا معنی ہے ” کچلی“ سامنے کے چار دانتوں کے برابر والا دانت، یہ دونوں جانب ہوتے ہیں، جمع انیاب و مینوب۔ (الـقـامـوس الـوحـيـد: 1731)
” السباع“ کا معنی ہے ” درندہ “ پھاڑ کر کھانے والا جانور، دو دانت والا جانور جو انسان اور چوپایوں کو پھاڑ کر کھاتا ہے، جیسے شیر، بھیٹر یا اور چیتا وغیرہ (القاموس الوحید: 740)۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ہر وہ درندہ جو کچلی والا ہے، حرام ہے اور (صحیح مسلم: 1934) میں ہے کہ ہر وہ پرندہ جو پنجے سے شکار کرتا ہے، وہ بھی حرام ہے، اسلام میں جتنی جامعیت ہے، اتنی جامعیت کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔