حدیث نمبر: 17
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّقْرِ السُّكَّرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ مَجُوسَ هَذِهِ الأُمَّةِ الْمُكَذِّبُونَ بِأَقْدَارِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِنْ مَرِضُوا فَلا تَعُودُوهُمْ ، وَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَلا تُسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ ، وَإِنْ مَاتُوا فَلا تَشْهَدُوهُمْ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، إِلا بَقِيَّةُ ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ مُصَفًّى
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی تقدیروں کے منکر اور تکذیب کرنے والے اس امت کے مجوسی ہیں، اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی بیمار پرسی نہ کرو، اگر تمہیں ملیں تو انہیں سلام نہ کرو، اگر یہ مر جائیں تو ان کے جنازے میں شرکت نہ کرو۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الإيمان / حدیث: 17
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه ابن ماجه فى «سننه» برقم: 92، قال الشيخ الألباني: حسن دون جملة التسليم، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 4046، 4455، والطبراني فى «الصغير» برقم: 615، »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 92

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 92 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کے جھٹلانے والے ہیں، اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرو، اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو، اور اگر ان سے ملو تو انہیں سلام نہ کرو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 92]
اردو حاشہ: (1)
ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے، تاہم شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے شواہد کی بنیاد پر اسی روایت کے آخری جملے (وَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَلَا ...)
کے بغیر حسن کہا ہے۔
دیکھئے: (تخريج احاديث المشكوة، حديث: 107، وضلال الجنة في تخريج السنة، حديث: 328)

(2)
منکرین تقدیر کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف خیر کا خالق ہے، شر کا خالق انسان ہے۔
اس طرح انہوں نے گویا ہر انسان کو خالق مان لیا۔
مجوسی دو خداؤں کے قائل ہیں ایک خیر کا خالق (یزدان)
اور ایک برائی کا خالق (اہرمن۔)
اس طرح یہ دونوں (منکرین تقدیر اور مجوس)
شر کاً خالق اللہ تعالیٰ کے بجائے کسی اور کو مانتے ہیں جب کہ اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور بدی، خیر اور شر دونوں کا خالق ہے، اور بندہ ان اعمال کا فاعل اور کرتکب ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے بندے کو نیکی اور بدی کرنے کی طاقت بخشی ہےاور اسے دونوں میں سے کوئی ایک راستہ منتخب کرنے کا اختیار دیا ہے۔
کوئی فرد نفس امارہ اور شیطان کے دھوکے میں آ کر غلط راہ منتخب کر لیتا ہے اور اللہ کو ناراض کر کے سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔
کوئی اللہ کی توفیق سے سیدھی راہ پر چلتا اور اللہ کو راضی کر کے اس کے انعامات کا مستحق بن جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 92 سے ماخوذ ہے۔