حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ السِّمَّرِيُّ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَسَنِ الشَّيْلمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَشَّرْتُ بِلالا ، فَقَالَ لِي : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، " بِمَ تُبَشِّرُنِي ؟ ، فَقُلْتُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَجِيءُ بِلالٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَاحِلَةٍ رَحْلُهَا مِنْ ذَهَبٍ ، وَزِمَامُهَا مِنْ دُرٍّ وَيَاقُوتٍ ، مَعَهُ لِوَاءٌ ، يَتْبَعُهُ الْمُؤَذِّنُونَ فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ حَتَّى إِنَّهُ لَيُدْخِلُ مَنْ أَذَّنَ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، يُرِيدُ بِذَلِكِ وَجْهَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، إِلا خَالِدٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ الْحُسَيْنُسیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو خوشخبری دی، اس نے کہا: عبداللہ! تم مجھے کس بات کی خوشخبری دیتے ہو؟ میں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”قیامت کے دن بلال ایک ایسی سواری پر آئے گا جس کا کجاوہ سونے کا اور لگام موتیوں اور یاقوت کی ہو گی، اور اس پر جھنڈا لگا ہوا ہو گا جس کے پیچھے سارے مؤذن ہوں گے، تو وہ ان کو جنت میں داخل کر دے گا، یہاں تک کہ وہ اس آدمی کو بھی داخل کر دے گا جس نے اللہ کی رضا مندی کے لیے چالیس دن اذان کہی۔“