حدیث نمبر: 141
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الأَعْجَمِ الصَّنْعَانِيُّ ، بِصَنْعَاءَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي الْجَنَّةِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "مَنْ تَرَكَ شَعْرَةً مِنْ جَسَدِهِ لَمْ يَغْسِلْهَا فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ فُعِلَ بِهَا كَذَا وَكَذَا فِي النَّارِ " ، قَالَ عَلِيٌّ : فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعْرِي ، وَكَانَ يَجُزُّ شَعْرَهُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، إِلا ابْنُهُ ، تَفَرَّدَ بِهِ جَرِيرُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَالْمَشْهُورُ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غسلِ جنابت میں جسم کا ایک بال بھی نہ دھویا تو اس کے ساتھ جہنم میں ایسا اور ایسا سلوک کیا جائے گا۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی لیے میں سر کے بالوں کا دشمن ہو گیا ہوں۔ اور وہ اپنے بال کاٹ دیا کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 249 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´غسل جنابت کے طریقے کا بیان`
«. . . عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعْرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا، فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ . . . .»
”. . . علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے غسل جنابت میں ایک بال برابر جگہ دھوئے بغیر چھوڑ دی، تو اسے آگ کا ایسا ایسا عذاب ہو گا . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/باب الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ: 249]
«. . . عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعْرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا، فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ . . . .»
”. . . علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے غسل جنابت میں ایک بال برابر جگہ دھوئے بغیر چھوڑ دی، تو اسے آگ کا ایسا ایسا عذاب ہو گا . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/باب الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ: 249]
فوائد و مسائل:
➊ مذکورہ روایات کے مجموعے سے واضح ہے کہ انسان غسل جنابت میں اہتمام و احتیاط سے اپنے پورے جسم کے تمام حصوں تک پانی پہنچائے، کسی بال برابر جگہ کا خشک رہ جانا بھی باعث عذاب ہے البتہ عورتوں کو اپنی مینڈھیاں نہ کھولنے کی شرعاً رعایت ہے، جیسے کہ آگے آ رہا ہے۔
➊ مذکورہ روایات کے مجموعے سے واضح ہے کہ انسان غسل جنابت میں اہتمام و احتیاط سے اپنے پورے جسم کے تمام حصوں تک پانی پہنچائے، کسی بال برابر جگہ کا خشک رہ جانا بھی باعث عذاب ہے البتہ عورتوں کو اپنی مینڈھیاں نہ کھولنے کی شرعاً رعایت ہے، جیسے کہ آگے آ رہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 249 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 599 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔`
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے غسل جنابت کے وقت اپنے جسم سے ایک بال کی مقدار بھی چھوڑ دیا اور اسے نہ دھویا، تو اس کے ساتھ آگ سے ایسا اور ایسا کیا جائے گا۔“ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کر لی، وہ اپنے بال خوب کاٹ ڈالتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 599]
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے غسل جنابت کے وقت اپنے جسم سے ایک بال کی مقدار بھی چھوڑ دیا اور اسے نہ دھویا، تو اس کے ساتھ آگ سے ایسا اور ایسا کیا جائے گا۔“ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کر لی، وہ اپنے بال خوب کاٹ ڈالتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 599]
اردو حاشہ:
سر کے بال رکھنا اگرچہ افضل ہے بشرطیکہ انگریزی طریقے سے نہ ہوں بلکہ پٹے بال ہوں، تاہم بال منڈا دینے بھی جائز ہیں۔
سر کے بال رکھنا اگرچہ افضل ہے بشرطیکہ انگریزی طریقے سے نہ ہوں بلکہ پٹے بال ہوں، تاہم بال منڈا دینے بھی جائز ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 599 سے ماخوذ ہے۔