حدیث نمبر: 131
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ فُورَكٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ هَذَا يَوْمٌ جَعَلَهُ اللَّهُ عِيدًا فَمَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ ، وَإِنْ كَانَ لَهُ طِيبٌ فَلْيَمَسَّ مِنْهُ ، وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ ، إِلا صَالِحٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسا دن ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بطورِ عید مقرر فرمایا، تو جو شخص جمعہ کو آئے تو وہ غسل کرے، اگر اس کے پاس خوشبو ہو تو اس کو اپنے جسم پر لگائے، اور مسواک کو اپنے اوپر لازم کر لے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الطهارة / حدیث: 131
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف ولکن عند الشواھد الحدیث صحیح
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ولکن عند الشواھد الحدیث صحیح ، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 884، 885، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 848، ومالك فى «الموطأ» برقم: 228، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1759، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2782، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1693، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1098، قال الشيخ الألباني: حسن ، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 1437، 6035، وأحمد فى «مسنده» برقم: 2420، 3540، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2558، والبزار فى «مسنده» برقم: 4837، 4838، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5302، 5303، 5332،والطبراني فى«الكبير» برقم: 3971، 10981، 11468، 12999، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 49، 7355، والطبراني فى «الصغير» برقم: 762 ، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 5587¤قال العینی : صالح بن أبي الأخضر ضعيف ، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (6 / 177)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1098

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1098 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جمعہ کے دن زیب و زینت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عید کا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اسے عید کا دن قرار دیا ہے، لہٰذا جو کوئی جمعہ کے لیے آئے تو غسل کر کے آئے، اور اگر خوشبو میسر ہو تو لگا لے، اور تم لوگ اپنے اوپر مسواک کو لازم کر لو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1098]
اردو حاشہ:
فائده:
مسواک کا عام نمازوں کے لئے بھی اہتمام کرنا چاہیے جمعے کے لئے زیادہ توجہ سے اس کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ اس کا طہارت اور صفائی سے خاص تعلق ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1098 سے ماخوذ ہے۔