حدیث نمبر: 1195
وَبِإِسْنَادِهِ وَبِإِسْنَادِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يَبْدَأُ فِي الْعِيدَيْنِ بِالصَّلاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فِي الأُولَى بِسَبْعٍ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ ، وَفِي الآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ ، وَكَانَ يَخْرُجُ فِي الْعِيدَيْنِ مَاشِيًا ، وَيَرْجِعُ مَاشِيًا ، وَكَانَ يُكَبِّرُ بَيْنَ أَضْعَافِ الْخُطْبَةِ ، وَيَكْثُرُ التَّكْبِيرَ فِي الْعِيدَيْنِ " .
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے اسی سند سے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عیدین خطبے سے پہلے پڑھتے، پھر پہلی رکعت میں سات تکبریں قراءت سے پہلے کہتے، پھر دوسری رکعت میں پانچ تکبریں قراءت سے پہلے کہتے۔ اور عید کے لیے پیدل چل کر جاتے اور پیدل واپس آتے۔ اور خطبے کے درمیان تکبریں کہتے، اور عیدین میں بہت تکبیر کہتے تھے۔

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 1195
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 6617، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1647، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1277،قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره ، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 1886، والطبراني فى«الكبير» برقم: 5448، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1170، 1171، 1172، 1173، 1174 ¤قال ابن حجر: إسناد ضعيف ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 373)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1277

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1277 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عیدین کی نماز میں تکبیرات کی تعداد کتنی ہو گی؟`
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1277]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عید کی نماز کی یہ خصوصیت ہے۔
کہ اس میں دوسری نمازوں میں کہی جانے والی تکبیرات کے علاوہ مزید تکبیرات بھی کہی جاتی ہیں۔
انھیں تکبیرات زوائد یا زائد تکبیریں کہتے ہیں۔
یعنی وہ تکبیریں جو دوسری نمازوں سے زائد عید کی نماز میں کہی جاتی ہیں۔

(2)
زائد تکبیروں کی تعداد پہلی رکعات میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ ہے۔

(3)
یہ تکبیرات قراءت سے پہلے کہی جاتی ہیں۔

(4)
تکبیر تحریمہ ان تکبیرات میں شامل نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1277 سے ماخوذ ہے۔