حدیث نمبر: 1174
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ خَلِيفَةَ الأُبُلِّيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، "مَنْ أَبَرُّ ؟ ، قَالَ : أُمَّكَ ، قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : أُمَّكَ قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ ، قَالَ : أَبَاكَ ، قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ ، قَالَ : الأَقْرَبَ فَالأَقْرَبَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، إِلا أَزْهَرُ ، تَفَرَّدَ بِهِ بِشْرُ عَنْ أَزْهَرَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

بہز بن حکیم، اپنے والد سے، ان کے دادا سے کہتے ہیں، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں کس سے نیکی کروں؟ فرمایا: ”اپنی ماں سے۔“ میں نے کہا: پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں سے۔“ میں نے کہا: پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے باپ سے۔“ میں نے کہا: پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرابت دار سے پھر قرابت دار سے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب البر و الصلة / حدیث: 1174
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 6770، 7335، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5139، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1897، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 7857، 15857، وأحمد فى «مسنده» برقم: 20345، والطبراني فى«الكبير» برقم: 957، 958، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 4482، والطبراني فى «الصغير» برقم: 626، 1140، وله شواهد من حديث أبى هريرة الدوسي، فأما حديث أبى هريرة الدوسي، أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5971، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2548، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2706، 3658، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8459»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1897 | معجم صغير للطبراني: 1165 | الادب المفرد: 3

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1897 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا بیان۔`
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ نیک سلوک اور صلہ رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ ، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ ، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ ، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر رشتہ داروں کے ساتھ پھر سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار پھر اس کے بعد کا، درجہ بدرجہ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1897]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ماں کوتین مشکل حالات سے گذرنا پڑتاہے: ایک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب نوماہ تک بچہ کو پیٹ میں رکھ کر مشقت و تکلیف برداشت کرتی ہے، دوسرا مرحلہ وہ ہوتا ہے جب بچہ جننے کا وقت آتاہے، وضع حمل کے وقت کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے یہ ماں ہی کو معلوم ہے، تیسرا مرحلہ دودھ پلانے کا ہے، یہی وجہ ہے کہ ماں کو قرابت داروں میں نیکی اور صلہ رحمی کے لیے سب سے افضل اور سب سے مستحق قراردیا گیاہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1897 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: الادب المفرد / حدیث: 3 کی شرح از الشیخ مولانا عثمان منیب ✍️
حضرت بہز بن حکیم اپنے باپ کے واسطے سے اپنے دادا (سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے حسن سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ ... [الادب المفرد 3]
فوائد ومسائل:
۱۔ انسان پر مالی اور بدنی دو قسم کے حقوق واجب ہوتے ہیں، دونوں قسم کے حقوق میں والدین کا درجہ سب سے پہلے ہے اور والدین میں بھی حسن سلوک کی زیادہ مستحق انسان کی ماں ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار پوچھنے پر تین مرتبہ بتایا کہ ماں حسن سلوک کی دنیا میں سب سے زیادہ مستحق ہے اور چوتھی مرتبہ آپ نے باپ کا ذکر کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ماں فطرتاً کمزور اور نرم دل ہوتی ہے جس کی وجہ سے اکثر لوگ ماں کی نافرمانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔
۲۔ ماں کا تین بار اور والد کا ایک بار ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ تین قسم کی مشقتیں ایسی ہیں جنھیں ماں تنہا برداشت کرتی ہے، یعنی حمل، جننے اور دودھ پلانے کی مشقت، اور بعد میں تربیت میں والد بھی شریک ہوتا ہے اس لیے چوتھی بار اس کا تذکرہ کیا ہے۔
۳۔ ماں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ماں کا معاملہ چار دیواری تک محدود ہوتا ہے جبکہ باپ کے معاملے سے لوگ بھی آگاہ ہوتے ہیں۔ انسان لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے والد کے ساتھ تو بسااوقات اچھا سلوک کرتا ہے لیکن والدہ اس سے محروم رہتی ہے۔
۴۔ ماں چونکہ کمزور خلقت ہے اس لیے ممکن ہے وہ نافرمانی اور برا سلوک برداشت نہ کرسکے اور اولاد کے لیے اس کی زبان سے بددعا نکل جائے اور انسان اس بددعا کی وجہ سے تباہ ہوجائے۔
۵۔ حدیث کے آخری حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو جتنا زیادہ قریبی ہے اس کا زیادہ حق ہے، اس لیے مراتب کا لحاظ ضرور رکھنا چاہیے۔ اکثر لوگ دوستوں اور غیروں کے ساتھ تو اچھا سلوک کرتے ہیں لیکن رشتے داروں اور والدین کے ساتھ ان کا رویہ درست نہیں ہوتا ہے۔ ایسا فعل بھی محل نظر ہے۔
۶۔ ہمارے معاشرے میں اگر میاں بیوی میں ناراضی ہوجائے اور معاملہ طلاق تک پہنچ جائے تو اولاد اکثر بگڑ جاتی ہے۔ ماں بچوں کو باپ کی نافرمانی کا حکم دیتی ہے اور باپ ماں کی برائیاں بیان کرتا ہے۔ ایسی صورت میں اولاد کو کیا کرنا چاہیے، یہ ایک نہایت اہم سوال ہے جس کا جواب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں مل جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں انسان ماں اور باپ دونوں کو ان کے حقوق دیتا رہے اور ماں کے ساتھ حسن سلوک کو مقدم رکھے اور عزت و تکریم میں باپ کو فوقیت دے۔ ماں کی وجہ سے باپ اور والد کی وجہ سے ماں کے ساتھ ہرگز بدسلوکی نہ کرے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 3 سے ماخوذ ہے۔