معجم صغير للطبراني
كتاب البر و الصلة— نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
باب: اپنے قبیلے کی مدافعت کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 1172
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ الْيَافُونِيُّ ، بِمَدِينَةِ يَافَا ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ هَارُونَ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "خَيْرُكُمُ الْمُدَافِعُ عَنْ عَشِيرَتِهِ مَا لَمْ يَأْثَمْ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أُسَامَةَ ، إِلا أَيُّوبُترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے قبیلے سے مدافعت کرے، جب تک کہ وہ گناہ کا مرتکب نہ ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5120 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عصبیت (تعصب) کا بیان۔`
سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا تو کہا: ” تم میں بہتر وہ شخص ہے، جو اپنے خاندان کا دفاع کرے، جب تک کہ وہ (اس دفاع سے) کسی گناہ کا ارتکاب نہ کر رہا ہو۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب بن سوید ضعیف ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5120]
سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا تو کہا: ” تم میں بہتر وہ شخص ہے، جو اپنے خاندان کا دفاع کرے، جب تک کہ وہ (اس دفاع سے) کسی گناہ کا ارتکاب نہ کر رہا ہو۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب بن سوید ضعیف ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5120]
فوائد ومسائل:
یہ ر وایت سنداضعیف ہے۔
تاہم گناہ اور ظلم کے کام میں اپنی قوم کا معاون بننا حرام ہے۔
اور یہی وہ تعصب ہے جس کی ممانعت آئی ہے۔
بلکہ صریح حکم ہے کہ (ۘوَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ) (المائدة۔
2) نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اورزیادتی کے کاموں میں باہم تعاون مت کرو۔
یہ ر وایت سنداضعیف ہے۔
تاہم گناہ اور ظلم کے کام میں اپنی قوم کا معاون بننا حرام ہے۔
اور یہی وہ تعصب ہے جس کی ممانعت آئی ہے۔
بلکہ صریح حکم ہے کہ (ۘوَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ) (المائدة۔
2) نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اورزیادتی کے کاموں میں باہم تعاون مت کرو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5120 سے ماخوذ ہے۔