معجم صغير للطبراني
كتاب البر و الصلة— نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
باب: تمام مومنین ایک جسم کی مثال ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1161
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّارَكِيُّ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ رُسْتَهْ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "مثل الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَحَابِّهِمْ مثل الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى شَيْءٌ مِنْهُ تَدَاعَى سَائِرُهُ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى ، وَفِي الْجَسَدِ مُضْغَةٌ إِذَا صَلَحَتْ وَسَلِمَتْ سَلِمَ سَائِرُ الْجَسَدِ ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ لَهَا سَائِرُ الْجَسَدِ ، الْقَلْبُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ شُعْبَةَ ، إِلا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومنوں کی آپس میں دوستی اور محبت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کچھ حصہ بیمار ہو جائے تو اس کا سارا وجود بیداری اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے، جسم میں ایک ٹکڑا ہے کہ جب وہ ٹھیک ہو جائے اور سلامت رہے تو سارا جسم بچ جاتا ہے، اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ خبردار! وہ دل ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6011 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6011. حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم اہل ایمان کو ایک دوسرے پر رحم کرنے آپس میں محبت کرنے اور ایک دوسرے سے شفقت کے ساتھ پیش آنے میں ایک جسم کی مانند دیکھو گے جس کے ایک عضو کو اگر تکلیف پہنچے تو سارا جسم بے قرار ہو جاتا ہے اس کی نیند اڑ جاتی ہے اور سارا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:6011]
حدیث حاشیہ: مسلمانوں کی یہی شان ہونے چاہیئے مگر آج یہ چیز بالکل نایاب ہے۔
نہیں دستیاب اب دو ایسے مسلماں کہ ہو ایک کو دےکھ کر ایک شاداں
نہیں دستیاب اب دو ایسے مسلماں کہ ہو ایک کو دےکھ کر ایک شاداں
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6011 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6011 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6011. حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم اہل ایمان کو ایک دوسرے پر رحم کرنے آپس میں محبت کرنے اور ایک دوسرے سے شفقت کے ساتھ پیش آنے میں ایک جسم کی مانند دیکھو گے جس کے ایک عضو کو اگر تکلیف پہنچے تو سارا جسم بے قرار ہو جاتا ہے اس کی نیند اڑ جاتی ہے اور سارا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:6011]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے مسلمانوں کے حقوق کی عظمت، ان کی معاونت اور ایک دوسرے پر ان کی شفقت کا پتا چلتا ہے کہ وہ جسد واحد (ایک جسم)
کی طرح ہیں، یعنی تکلیف و راحت میں جسم کے تمام اعضاء آپس میں موافقت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو دکھ میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔
مسلمانوں کی یہی شان ہونی چاہیے کہ کسی ایک مسلمان کو تکلیف میں مبتلا دیکھ کر تڑپ جائیں اور اس کی مدد کے لیے بےقرار ہو جائیں لیکن دور حاضر میں یہ گوہر نایاب ہے۔
واللہ Eعلم
اس حدیث سے مسلمانوں کے حقوق کی عظمت، ان کی معاونت اور ایک دوسرے پر ان کی شفقت کا پتا چلتا ہے کہ وہ جسد واحد (ایک جسم)
کی طرح ہیں، یعنی تکلیف و راحت میں جسم کے تمام اعضاء آپس میں موافقت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو دکھ میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔
مسلمانوں کی یہی شان ہونی چاہیے کہ کسی ایک مسلمان کو تکلیف میں مبتلا دیکھ کر تڑپ جائیں اور اس کی مدد کے لیے بےقرار ہو جائیں لیکن دور حاضر میں یہ گوہر نایاب ہے۔
واللہ Eعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6011 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2586 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مومنوں کی باہمی محبت کرنے ایک دوسرے پر رحم کرنے اور شفقت و مہربانی کرنے میں تمثیل جسم انسانی کی طرح ہے، جب اس کا کوئی عضو بیمار پڑتا ہے، تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کی خاطر سارا جسم بے خوابی اور بخار کو دعوت دیتا ہے۔ یعنی جسم کے باقی حصے بھی بے خوابی اور بخار میں شریک ہو جاتے ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6586]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا، ایمان والوں میں باہم ایسی محبت و مودت، ایسی رحمت و شفقت اور ہمدردی و خیرخواہی اور ایسا دلی تعلق ہونا چاہیے کہ دیکھنے والی آنکھ ان کو اس حالت میں دیکھے کہ اگر ان میں سے کوئی دکھ، درد یا تکلیف و مشکل میں مبتلا ہے تو سب اس کو اپنا دکھ، درد اور مصیبت خیال کریں اور سب اس کی پریشانی و بے قراری میں مبتلا ہوں اور اس کو اپنے دکھ، درد کی طرح دور کرنے کی کوشش کریں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6586 سے ماخوذ ہے۔