حدیث نمبر: 1155
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الدَّمِيرِيُّ ، بِمِصْرَ بِقَرْيَةِ دَمِيرَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ دُرَيْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "مَا نَقَصَ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ ، وَلا عَفَا رَجُلٌ عَنْ مَظْلِمَةٍ إِلا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا ، فَاعْفُوا يَعِزَّكُمُ اللَّهُ ، وَلا فَتَحَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الثَّوْرِيِّ ، إِلا قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ ، وَزَكَرِيَّا بْنُ دُوَيْدَارَ الأَشْعَثِيُّ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ مال میں کوئی کمی نہیں پیدا کرتا، اور ظلم معاف کر دینا کسی آدمی کی عزت میں اضافہ کرتا ہے۔ پس معاف کرو اللہ تمہیں عزت دے، اور کوئی آدمی بھی جب اپنے اوپر مانگنے کا دروازہ کھول دیتا ہے تو اللہ اس پر فقیری کا دروازہ کھول دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب البر و الصلة / حدیث: 1155
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدا ، أخرجه أحمد فى «مسنده» برقم: 1696، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 849، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 159، والبزار فى «مسنده» برقم: 1032، 1033، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 9908، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2270، والطبراني فى «الصغير» برقم: 142، وله شواهد من حديث أبى هريرة الدوسي، فأما حديث أبى هريرة الدوسي، أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2588، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2029، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7326 ¤قال الهيثمي: فيه زكريا بن دويد وهو ضعيف جدا ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (3 / 105)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2588 | سنن ترمذي: 2029

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2588 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا:"صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور اللہ بندے کو عفوودرگزر کرنے پر زیادہ عزت بخشتا ہے اور جو بھی اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے عجز و نیاز اپناتا ہے، اللہ اس کو رفعت و بلندی بخشتا ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6592]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: انسان اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے اگر مال خرچ کرتا ہے تو دنیا میں اس کے مال و دولت میں برکت پیدا ہوتی ہے، کم مال سے زیادہ ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں اور مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہتا ہے، اسی طرح اس کا مال بچ رہتا ہے" اسی طرح اس کی ظاہری کمی کا جبیرہ ہو جاتا ہے، اس طرح قیامت کے دن اس کو اس پر جو اجروثواب حاصل ہو گا وہ بہت زیادہ ہے، ایک کھجور اُحد پہاڑ کے برابر ہو جائے گی۔
اس طرح جو انسان دوسروں کو معاف کرتا ہے، ان کے نزدیک اس کا عزت و وقار بڑھ جاتا ہے اور لوگ اس کی تعریف و توصیف کرتے ہیں اور آخرت میں بھی اس کی عزت میں اضافہ ہو گا اور جو انسان اللہ کی رضا کے لیے عاجزی و فروتنی اختیار کرتا ہے۔
لوگوں کے دلوں میں اس کی قدرومنزلت بڑھ جاتی ہے اور قیامت کے دن بھی اس کے درجات و مراتب میں رفعت و بلندی پیدا ہو گی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2588 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2029 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´تواضع و انکساری کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ مال کو کم نہیں کرتا، اور عفو و درگزر کرنے سے آدمی کی عزت بڑھتی ہے، اور جو شخص اللہ کے لیے تواضع و انکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا رتبہ بلند فرما دیتا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 2029]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
حدیث میں تواضع اور خاکساری کا مذکور مرتبہ تو دنیا میں دیکھی حقیقت ہے، اے کاش لوگ نصیحت پکڑتے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2029 سے ماخوذ ہے۔