معجم صغير للطبراني
كتاب الأقضية— فیصلہ کرنے کا بیان
باب: دو جھگڑا کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کرانے کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى أَبِي الْحَرِيشِ الصُّوفِيُّ الْكِلابِيُّ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، وَعِنْدَهُ خَصْمَانِ يَخْتَصِمَانِ فَقَالَ لِي : " اقْضِ بَيْنَهُمَا ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَنْتَ أَوْلَى بِذَلِكَ ، فَقَالَ : اقْضِ بَيْنَهُمَا ، فَقُلْتُ : عَلَى مَاذَا ؟ ، قَالَ : اجْتَهِدْ فَإِنْ أَصَبْتَ فَلَكَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَإِنْ لَمْ تُصِبْ فَلَكَ حَسَنَةٌ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ شِنْظِيرِ ، إِلا حَفْصٌ ، وَلا يُرْوَى عَنْ عُقْبَةَ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِسیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو جھگڑالو جھگڑ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”ان دونوں میں فیصلہ کر دو۔“ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے درمیان فیصلہ کر دو۔“ میں نے کہا: کس بات میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بات سمجھنے میں کوشش کر، اگر تو نے درست طریق کو پا لیا تو تیرے لیے دس نیکیاں ہوں گی ورنہ ایک۔“