حدیث نمبر: 1145
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِي ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ، وَالْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهُ مثل عَمَلِهِ مُقِيمًا صَحِيحًا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ ، إِلا حَفْصٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي الْحَوَارِي
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی مسلمان آدمی بیمار ہو جائے یا سفر پر نکل جائے تو اس کا نیک عمل اسی طرح لکھا جاتا ہے جس طرح وہ صحت اور قیام کی حالت میں کیا کرتا تھا۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب المرضيٰ / حدیث: 1145
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2996، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2929، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1265، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3091، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 6643، وأحمد فى «مسنده» برقم: 19992، 20067، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 236، والطبراني فى «الصغير» برقم: 778، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 10910، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 2214»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2996 | معجم صغير للطبراني: 1147

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2996 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2996. حضرت ابو بردہ بن ابی موسیٰ سے روایت ہے وہ اور یزید بن ابو کبشہ ایک سفر میں اکٹھے تھے اور یزید سفر میں بھی روزہ رکھا کرتے تھے۔ ابو بردہ نے ان سے کہا: میں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓسے بارہا سنا، وہ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب آدمی بیمار ہوتا ہے یا سفرکرتا ہے تو وہ جس قدر عبادات بحالت اقامت اور دوران صحت میں کرتا تھا اس کے لیے وہ سب لکھی جاتی ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2996]
حدیث حاشیہ: باب میں مسافر سے سفر جہاد کا مسافر مراد ہے۔
اس کے بعد ہر نیک سفر کا مسافر جس سے مجبوری کی وجہ سے بہت سے نوافل‘ ورد‘ وظائف‘ نماز تہجد وغیرہ ترک ہو جاتی ہیں۔
یہ اللہ کا فضل ہے کہ ایسے مسافر کے لئے ان جملہ اعمال صالحہ نافلہ کا ثواب ملتا رہتا ہے۔
جو وہ حالت حضر میں کرتا رہتا تھا اور اب حالت سفر میں وہ عمل سے ترک ہوگئے۔
مسلمان مریض کے لئے بھی یہی حکم ہے۔
یہ اللہ کا فضل ہے جو امت محمدیہ کی خصوصیات میں سے ہے۔
یہ اللہ کا محض فضل ہے کہ سفر و حضر ہر جگہ مجھ ناچیز کا عمل تسوید بخاری شریف جاری رہتا ہے۔
جسے میں نفلی عبادت کی جگہ ادا کرتا رہتا ہوں۔
اللہ قبول کرے اور خلوص عطا کرے آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2996 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2996 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2996. حضرت ابو بردہ بن ابی موسیٰ سے روایت ہے وہ اور یزید بن ابو کبشہ ایک سفر میں اکٹھے تھے اور یزید سفر میں بھی روزہ رکھا کرتے تھے۔ ابو بردہ نے ان سے کہا: میں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓسے بارہا سنا، وہ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب آدمی بیمار ہوتا ہے یا سفرکرتا ہے تو وہ جس قدر عبادات بحالت اقامت اور دوران صحت میں کرتا تھا اس کے لیے وہ سب لکھی جاتی ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2996]
حدیث حاشیہ:

اگر کوئی بیماری یا سفر کی وجہ سے فرض کی ادائیگی سے عاجز رہے تو اس حدیث کے مطابق امید ہے کہ اسے ثواب سے محروم نہیں کیا جا ئے گا۔
مثلاً: کھڑے ہو کر نماز پڑھنا فرض ہے لیکن اگر کسی مجبوری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھی جائے تو اس کے لیے قیام کا ثواب ہی لکھا جائے گا۔
اسی طرح دوران سفر میں بہت سے نوافل و ظائف اور معمولات چھوٹ جاتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ مسافر کو ان تمام اعمال کا ثواب ملتا رہتا ہے جو وہ گھر میں رہتے ہوئے کیا کرتا تھا۔

عنوان میں مسافر سے مراد سفر جہاد کا مسافر ہے پھر نیک غرض کے لیے سفر کرنے والا مراد ہے۔

واضح رہے کہ یہ اعزاز اس مسافر کے لیے ہے جو دوران سفر میں اپنا وقت اللہ کی اطاعت میں گزارے اور گناہوں سے اپنا دامن بچائے رکھے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2996 سے ماخوذ ہے۔