حدیث نمبر: 1144
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : "مَنْ عَادَ مَرِيضًا خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ حَتَّى يَبْلُغَهُ ، فَإِذَا قَعَدَ عِنْدَهُ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ ، فَلَمَّا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْعَائِدُ الْمَرِيضَ ، فَمَا لِلْمَرِيضِ ؟ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمِّهِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عِكْرِمَةَ ، إِلا الْحَكَمُ ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جو کسی بیمار کی بیمار پرسی کرے تو وہ اللہ کی رحمت میں غوطہ زن ہوتا ہے، جب اس کے پاس بیٹھا تو رحمت نے اس کو ڈھانپ لیا۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرمانا تھا فرما چکے تو میں نے عرض کیا: یہ بیمار پرسی کرنے والے کے لیے ہے تو بیمار کے لیے کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی تین دن تک بیمار رہے تو گناہوں سے اسی طرح پاک ہو جاتا ہے جیسا کہ آج ہی اس کو اس کی ماں نے جنا ہو۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب المرضيٰ / حدیث: 1144
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الطبراني فى «الصغير» برقم: 519، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2688، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 936، 941، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 10825، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3487، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14283، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3802، والبزار فى «مسنده» برقم: 6834، 7089، 6679، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29952 ¤قال الهيثمي: أبو داود ضعيف جدا وفي إسناد الطبراني إبراهيم بن الحكم بن أبان وهو ضعيف أيضا ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (2 / 297)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2688 | سنن ترمذي: 3487 | معجم صغير للطبراني: 961

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3487 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´انگلیوں پر تسبیح گننے کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کی جو بیماری سے سخت لاغر اور سوکھ کر چڑیا کے بچے کی طرح ہو گئے تھے عیادت کی، آپ نے ان سے فرمایا: کیا تم اپنے رب سے اپنی صحت و عافیت کی دعا نہیں کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: میں دعا کرتا تھا کہ اے اللہ! جو سزا تو مجھے آخرت میں دینے والا تھا وہ سزا مجھے تو دنیا ہی میں پہلے ہی دیدے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! پاک ہے اللہ کی ذات، تو اس سزا کو کاٹنے اور جھیلنے کی طاقت و استطاعت نہیں رکھتا، تم یہ کیوں نہیں کہا کرتے تھے: «اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3487]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تو ہمیں دنیا میں بھی نیکی، اچھائی وبھلائی دے اور آخرت میں بھی حسنہ، نیکی بھلائی و اچھائی دے، اور بچالے تو ہمیں جہنم کے عذاب سے۔
 (البقرة: 201)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3487 سے ماخوذ ہے۔