حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : "مَنْ عَادَ مَرِيضًا خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ حَتَّى يَبْلُغَهُ ، فَإِذَا قَعَدَ عِنْدَهُ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ ، فَلَمَّا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْعَائِدُ الْمَرِيضَ ، فَمَا لِلْمَرِيضِ ؟ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمِّهِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عِكْرِمَةَ ، إِلا الْحَكَمُ ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُسیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جو کسی بیمار کی بیمار پرسی کرے تو وہ اللہ کی رحمت میں غوطہ زن ہوتا ہے، جب اس کے پاس بیٹھا تو رحمت نے اس کو ڈھانپ لیا۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرمانا تھا فرما چکے تو میں نے عرض کیا: یہ بیمار پرسی کرنے والے کے لیے ہے تو بیمار کے لیے کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی تین دن تک بیمار رہے تو گناہوں سے اسی طرح پاک ہو جاتا ہے جیسا کہ آج ہی اس کو اس کی ماں نے جنا ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کی جو بیماری سے سخت لاغر اور سوکھ کر چڑیا کے بچے کی طرح ہو گئے تھے عیادت کی، آپ نے ان سے فرمایا: ” کیا تم اپنے رب سے اپنی صحت و عافیت کی دعا نہیں کرتے تھے؟ “ انہوں نے کہا: میں دعا کرتا تھا کہ اے اللہ! جو سزا تو مجھے آخرت میں دینے والا تھا وہ سزا مجھے تو دنیا ہی میں پہلے ہی دیدے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سبحان اللہ! پاک ہے اللہ کی ذات، تو اس سزا کو کاٹنے اور جھیلنے کی طاقت و استطاعت نہیں رکھتا، تم یہ کیوں نہیں کہا کرتے تھے: «اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3487]
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تو ہمیں دنیا میں بھی نیکی، اچھائی وبھلائی دے اور آخرت میں بھی حسنہ، نیکی بھلائی و اچھائی دے، اور بچالے تو ہمیں جہنم کے عذاب سے۔
(البقرة: 201)