حدیث نمبر: 114
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مِهْرَانَ الصَّفَّارُ الْمَوْصِلِيُّ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، وَأَيُّوبَ ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " صَبَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، وَمَضْمَضَ ، وَاسْتَنْثَرَ ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ، وَذِرَاعَيْهِ ، وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حَبِيبٍ ، إِلا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور کلی کی، پھر ناک جھاڑا، اپنا چہرہ دھویا، اپنی کلائیاں دھوئیں، پیشانی کا مسح کیا اور موزوں اور پگڑی پر مسح کیا۔

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الطهارة / حدیث: 114
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 182، 203، 206، 363، 388، 2918، 4421، 5798، 5799، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 274، ومالك فى «الموطأ» برقم: 70، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 50، 190، 191، 203، 1064، 1514، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1326، 1342، 1346، 1347، 2224، 2225، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 489، 610، 5953، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 17، 79، 82، 107، 108، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 16، 82، 108، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1، 149، 150، 151، 156، 161، والترمذي فى «جامعه» برقم: 20، 98، 100، والدارمي فى «مسنده» برقم: 686، 687، 740، 1374، 1375، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 331، 389، 545، 1236، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 267، 268، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18421، 18428، والحميدي فى «مسنده» برقم: 775، 776، وأخرجه الطبراني فى «الصغير» برقم: 369، وأخرجه الطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 132، 133، وأخرجه الطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 5653»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1 | سنن ترمذي: 20 | سنن ابن ماجه: 331 | سنن دارمي: 683 | سنن دارمي: 684 | صحيح ابن خزيمه: 50

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قضائے حاجت کے لیے تنہائی کی جگہ جانا`
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت (یعنی پیشاب اور پاخانہ) کے لیے جاتے تو دور تشریف لے جاتے تھے۔ [سنن ابي داود: 1]
فوائد و مسائل
➊ دیہات میں یعنی کھلے علاقے میں قضائے حاجت کے لیے آبادی سے دور جانا ضروری ہے تاکہ کسی شخص کی نظر نہ پڑے۔ شہروں میں چونکہ باپردہ بیت الخلاء بنے ہوتے ہیں، اس لیے وہاں دور جانے کی ضرورت نہیں۔
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک انسانی اور اسلامی فطرت کا آئینہ دار ہے جس میں شرمگاہ کو انسانی نظر سے محفوظ رکھنے کے علاوہ ماحول کی صفائی ستھرائی کے اہتمام کا بھی درس ملتا ہے اور مزید یہ کہ آبادی کے ماحول کو کسی طرح بھی آلودہ نہیں ہونا چاہیے۔
➌ نیز آپ حیا و وقار کا عظیم پیکر تھے۔
➍ ان احادیث میں اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کی بالغ نظری بھی ملاحظہ ہو کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نشست و برخاست تک کے ایک ایک پہلو کو کس دقت نظر اور شرعی حیثیت سے ملاحظہ کیا، اسے اپنے اذہان میں محفوظ رکھا اور امت تک پہنچایا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 20 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قضائے حاجت کے لیے دور تشریف لے جانے کا بیان​۔`
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے نکلے تو بہت دور نکل گئے۔ [سنن ترمذي: 20]
اردو حاشہ:
1؎:
ایسا صرف لوگوں کی نظروں سے دور ہو جانے کے لیے کرتے تھے، اب یہ مقصد تعمیر شدہ بیت الخلاء سے حاصل ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 20 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 331 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان۔`
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور جاتے۔ [سنن ابن ماجه: 331]
اردو حاشہ:
پردے کے اعضاء کو دوسروں کی نظروں سے چھپانا ہر حال میں فرض ہے، پیشاب وغیرہ کی حاجت کے وقت انسان کو اپنا جسم کھولنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اس مقصد کے لیے بیت الخلاء میں جانا چاہیے تاکہ دوسروں سے پردہ قائم رہے۔
اگر میدان میں یہ ضرورت پیش آئے تو دوسروں سے اس قدر دور چلے جانا چاہیے کہ کسی کو نظر نہ پڑے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ کسی چیز کی اوٹ میں فراغت حاصل کرلی جائے مثلاً کسی دیوار یا درخت کے پیچھے چلا جائےبشرطیکہ وہاں ممانعت کی کوئی دوسری وجہ نہ ہو یعنی وہ درخت عام لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ کے طور پر استعمال نہ ہوتا ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 331 سے ماخوذ ہے۔