حدیث نمبر: 1137
حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَارِسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَسَوِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْمَدِينِيُّ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : فَقَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلا كَانَ يُجَالِسُهُ فَقَالَ : " مَالِي فَقَدْتُ فُلانًا ؟ ، قَالُوا : اغْتَبَطَ ، وَكَانُوا يُسَمُّونَ الْوَعْكَ الاغْتِبَاطَ ، فَقَالَ : قُومُوا حَتَّى نَعُودُهُ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ بَكَى الْغُلامُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : لا تَبْكِ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَخْبَرَنِي أَنَّ الْحُمَّى حَظُّ أُمَّتِي مِنْ جَهَنَّمَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، إِلا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، وَلا عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، إِلا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ . تَفَرَّدَ بِهِ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو گم پایا جس کے ساتھ آپ بیٹھا کرتے تھے، فرمانے لگے: ”مجھے فلاں آدمی نظر نہیں آیا؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اس کو بخار ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھو، ہم ان کی بیمار پرسی کرنے جا رہے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے جب اس کے پاس پہنچے تو لڑکا رونے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”رو نہیں، جبریل نے مجھے بتایا ہے کہ بخار میری امت کے لیے جہنم کا حصہ ہے (جو انہیں دنیا میں ہی مل جاتا ہے)۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب المرضيٰ / حدیث: 1137
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 3318، والطبراني فى «الصغير» برقم: 314 ¤قال الهيثمي: فيه عمر بن راشد ضعفه أحمد وغيره ووثقه العجلي ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (2 / 306)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3263 | صحيح البخاري: 5725 | صحيح مسلم: 2210 | سنن ابن ماجه: 3471

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3471 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بخار جہنم کی بھاپ ہے، اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کی بھاپ ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3471]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بیمار کا جہنم کی آگ سے تعلق غیبی اور روحانی ہے۔
اس کی حقیقت معلوم نہیں ہوسکتی۔
یا یہ مطلب ہے کہ اس سے جہنم کی یاد آتی ہے۔
یا جس طرح دنیا کی خوشیاں اور راحتیں جنت کی نعمتوں سے ایک طرح کی نسبت رکھتی ہیں۔
اسی طرح غم اور دکھ کا جہنم سے ایک تعلق ہے۔

(2)
حرارت کا علاج پانی ہے۔
بخار کی اکثر قسموں میں پانی کے استعمال سے فائدہ ہوتاہے۔

(3)
اس حدیث میں پانی کے استعمال کا طریقہ بیان نہیں کیاگیا اس کے استعمال کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں۔
مثلاً پانی پینا یا جسم پر پانی کی پٹیاں رکھنا یاغسل کرنا جیسے رسول اللہ ﷺ نے حیات مبارکہ کے آخری ایام میں غسل فرمایا تاکہ حرارت کچھ کم ہو تو جماعت سے نماز پڑھ سکیں۔
خصوصاً گرم علاقوں میں بخار عام طور پر گرمی کی شدت کی وجہ سے ہوتا ہے۔
لہٰذا اس کا علاج پانی سے مناسب ہے۔
حضرت اسماء بنت ابی بکررضی اللہ تعالیٰ عنہا بخار کی مریض خاتون کے گریبان میں پانی ڈال دیا کرتی تھیں۔
تاکہ جسم کو ٹھنڈک پہنچے اور فرماتی تھیں۔
کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے۔
کہ ہم اسے (بخار کو)
پانی کے ذریعے سے ٹھنڈا کریں۔ (صحیح البخاري، الطب، باب الحمی من فیح جھنم، حدیث: 5724)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3471 سے ماخوذ ہے۔