معجم صغير للطبراني
كتاب التفسير و فضائل القرآن— تفسیر و فضائل القرآن کا بیان
باب: تین قسم کے لوگوں کے لیے آخرت میں آسانی کا بیان
حدیث نمبر: 1130
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبَانَ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ أَبُو الْيَقْظَانِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "ثَلاثَةٌ لا يَهُولُهُمُ الْفَزَعُ الأَكْبَرُ وَلا يَنَالُهُمُ الْحِسَابُ هُمْ عَلَى كَثِيبٍ مِنْ مِسْكٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ حِسَابِ الْخَلائِقِ : رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَأَمَّ بِهِ قَوْمًا وَهُمْ يَرْضَوْنَ بِهِ ، وَدَاعٍ يَدْعُو إِلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ ، وَعَبْدٌ أَحْسَنَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ وَفِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَوَالِيهِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ بَشِيرِ بْنِ عَاصِمٍ ، إِلا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں کو بہت بڑی گھبراہٹ خوفزدہ نہیں کر سکے گی، اور نہ ہی حساب کوئی نقصان پہنچا سکے گا، وہ مخلوقات کے حساب سے فارغ ہونے تک کستوری کے ٹیلے پر ہوں گے: (1) ایک وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کی وجہ سے قرآن کو پڑھا۔ (2) ایک وہ شخص جس نے لوگوں کو نماز کی امامت کروائی جب کہ وہ اس پر خوش تھے۔ (3) ایک وہ شخص جس نے اپنے اور اپنے رب کے درمیان اور اپنے مالکوں کے درمیان اچھا معاملہ کیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1986 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نیک سیرت غلام کی فضیلت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تین آدمی مشک کے ٹیلے پر ہوں گے، قیامت کے دن، پہلا وہ غلام جو اللہ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے راضی ہوں، اور تیسرا وہ آدمی جو رات اور دن میں نماز کے لیے پانچ بار بلاتا ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1986]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تین آدمی مشک کے ٹیلے پر ہوں گے، قیامت کے دن، پہلا وہ غلام جو اللہ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے راضی ہوں، اور تیسرا وہ آدمی جو رات اور دن میں نماز کے لیے پانچ بار بلاتا ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1986]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎: یعنی اذان دیتاہے۔
نوٹ:
(سند میں أبوالیقظان ضعیف، مختلط اور مدلس راوی ہے، اور تشیع میں بھی غالی ہے)
وضاحت: 1 ؎: یعنی اذان دیتاہے۔
نوٹ:
(سند میں أبوالیقظان ضعیف، مختلط اور مدلس راوی ہے، اور تشیع میں بھی غالی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1986 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2566 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تین قسم کے لوگ مشک کے ٹیلے پر ہوں گے “، راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ نے فرمایا: ” قیامت کے دن، ان پر اگلے اور پچھلے رشک کریں گے: ایک وہ آدمی جو رات دن میں پانچ وقت نماز کے لیے اذان دے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرتا ہو اور وہ اس سے راضی ہوں اور تیسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2566]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تین قسم کے لوگ مشک کے ٹیلے پر ہوں گے “، راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ نے فرمایا: ” قیامت کے دن، ان پر اگلے اور پچھلے رشک کریں گے: ایک وہ آدمی جو رات دن میں پانچ وقت نماز کے لیے اذان دے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرتا ہو اور وہ اس سے راضی ہوں اور تیسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2566]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابوالیقظان ضعیف مدلس اور مختلط راوی ہے، تشیع میں بھی غالی ہے)
نوٹ:
(سند میں ابوالیقظان ضعیف مدلس اور مختلط راوی ہے، تشیع میں بھی غالی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2566 سے ماخوذ ہے۔