حدیث نمبر: 1123
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ الْحَجَّاجِ الزُّبَيْدِيُّ ، بِمَدِينَةِ زَبِيدٍ بِالْيَمَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو حُمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ، قَالَ : ذَكَرَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "مَا ذِئْبَانِ ضَارِيَانِ بَاتَا فِي حَظِيرَةٍ فِيهَا غَنَمٍ يَفْتَرِسَانِ ، وَيَأْكُلانِ بِأَسْرَعَ فَسَادًا فِيهَا مِنْ طَلَبِ الْمَالِ وَالشَّرَفِ فِي دِينِ الْمُسْلِمِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، إِلا أَبُو قُرَّةَ ، وَعِنْدَ سُفْيَانَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِسْنَادَانِ آخَرَانِ ، رَوَاهُ قُطْبَةُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ الْمِنْهَالِ الْغَنَوِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکریوں کے کسی باڑے میں اگر دو شکاری بھیڑیے چیر پھاڑ کریں اور کھالیں تو وہ اتنی خرابی نہیں کر سکتے جتنی خرابی ایک مسلمان کے دین میں مال اور جاہ کے طلب کرنے سے ہوتی ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب التفسير و فضائل القرآن / حدیث: 1123
درجۂ حدیث محدثین: [صحيح
تخریج حدیث «[صحيح ، أخرجه الطبراني فى «الصغير» برقم: 943، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1323، وله شواهد من حديث كعب بن مالك الأنصاري، فأما حديث كعب بن مالك الأنصاري، أخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 2376، قال الشيخ الألباني: صحيح ، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16025، 16036، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2772، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3228»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2376

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2376 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´دولت کی ہوس اور جاہ طلبی دین کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔`
کعب بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو بھوکے بھیڑیئے جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے اتنا نقصان نہیں پہنچائیں گے جتنا نقصان آدمی کے مال و جاہ کی حرص اس کے دین کو پہنچاتی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2376]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ مال وجاہ کی محبت اورحرص جس کے اندرآگئی وہ ہلاکتوں سے اپنا دامن نہیں بچاسکتا، بدقسمتی سے آج امت اسی فتنہ سے دوچارہے اوراس کی تباہی کا یہ عالم ہے کہ جس انتشاراورشدیداختلافات کا یہ امت اوراس کی دینی جماعتیں شکارہیں ان کے اسباب میں بھی مال وجاہ کی محبت سرفہرست ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2376 سے ماخوذ ہے۔