معجم صغير للطبراني
كتاب التفسير و فضائل القرآن— تفسیر و فضائل القرآن کا بیان
باب: سونے چاندی کے وبال، شکر گزار دل، ذکر کرنے والی زبان اور نیک بیوی کا بیان
حدیث نمبر: 1121
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ صَدَقَةَ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ مُعَافَى بْنِ عِمْرَانَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُرَادِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : "مَّا نزلت وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ سورة التوبة آية 34 ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : تَبًّا لِلذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيُّ الْمَالِ نَكْنِزُ ؟ ، قَالَ : قَلْبًا شَاكِرًا ، وَلِسَانًا ذَاكِرًا ، وَزَوْجَةً صَالِحَةً "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُرَادِيِّ ، إِلا شَرِيكٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ الْمُعَافَىترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ﴾ (التوبہ: 34) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے اور چاندی کے لیے ہلاکت ہو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم کون سا مال خزانہ بنائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(1) شکر گزار دل، (2) اللہ کو یاد کرنے والی زبان، (3) اور نیک بیوی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3094 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «والذين يكنزون الذهب والفضة» ” اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں، اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو آپ انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئیے “ (التوبہ: ۳۴)، نازل ہوئی، اس وقت ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ کے بعض صحابہ نے کہا: سونے اور چاندی کے بارے میں جو اترا سو اترا (یعنی اس کی مذمت آئی) اگر ہم جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو اسی کو اپناتے۔ آپ نے فرمایا: ” بہترین مال یہ ہے کہ آدمی کے پاس اللہ کو یاد کرنے والی زبان ہو، شکر گزار دل ہو، اور اس کی بیوی ایسی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3094]
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «والذين يكنزون الذهب والفضة» ” اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں، اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو آپ انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئیے “ (التوبہ: ۳۴)، نازل ہوئی، اس وقت ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ کے بعض صحابہ نے کہا: سونے اور چاندی کے بارے میں جو اترا سو اترا (یعنی اس کی مذمت آئی) اگر ہم جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو اسی کو اپناتے۔ آپ نے فرمایا: ” بہترین مال یہ ہے کہ آدمی کے پاس اللہ کو یاد کرنے والی زبان ہو، شکر گزار دل ہو، اور اس کی بیوی ایسی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3094]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں، اوراسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے توآپ انھیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے (التوبة: 34)
وضاحت:
1؎:
اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں، اوراسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے توآپ انھیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے (التوبة: 34)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3094 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1856 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بہترین عورت کا بیان۔`
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سونے اور چاندی کے بارے میں آیت اتری تو لوگ کہنے لگے کہ اب کون سا مال ہم اپنے لیے رکھیں؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اسے تمہارے لیے معلوم کر کے کر آتا ہوں، اور اپنے اونٹ پر سوار ہو کر اسے تیز دوڑایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، میں بھی آپ کے پیچھے تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کون سا مال رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں ہر کوئی شکر کرنے والا دل، ذکر کرنے والی زبان، اور ایمان والی بیوی رکھے جو اس کی آخرت کے کاموں میں مدد کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1856]
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سونے اور چاندی کے بارے میں آیت اتری تو لوگ کہنے لگے کہ اب کون سا مال ہم اپنے لیے رکھیں؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اسے تمہارے لیے معلوم کر کے کر آتا ہوں، اور اپنے اونٹ پر سوار ہو کر اسے تیز دوڑایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، میں بھی آپ کے پیچھے تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کون سا مال رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں ہر کوئی شکر کرنے والا دل، ذکر کرنے والی زبان، اور ایمان والی بیوی رکھے جو اس کی آخرت کے کاموں میں مدد کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1856]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کا ذکر اور اللہ کا شکر بہت بڑی نعمت ہے جس کو ان کاموں کی توفیق مل گئی اسے بہت بڑی دولت حاصل ہو گئی۔
(2)
سونے چاندی کے بارے میں نازل ہونے والا حکم یہ ہے: ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ (التوبة، 34: 9)
’’جو لوگ سونا چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوش خبری دے دیجیئے۔‘‘
(3)
مال اچھی چیز ہے لیکن اس سے اہم انسانی کی اخلاقی خوبیاں ہیں۔
خاص طور پر صبر اور شکر کی بہت اہمیت ہے۔
(4)
جس عورت کے دل میں ایمان ہوگا، وہ خود بھی آخرت کو سامنے رکھے گی اور خاوند کو نیکی کی راہ پر چلنے میں مدد دے گی، اس لیے ایسی نیک عورت اللہ کی بڑی نعمت ہے۔
مسلمان مرد کو ایسی عورت کی قدر کرنی چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کا ذکر اور اللہ کا شکر بہت بڑی نعمت ہے جس کو ان کاموں کی توفیق مل گئی اسے بہت بڑی دولت حاصل ہو گئی۔
(2)
سونے چاندی کے بارے میں نازل ہونے والا حکم یہ ہے: ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ (التوبة، 34: 9)
’’جو لوگ سونا چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوش خبری دے دیجیئے۔‘‘
(3)
مال اچھی چیز ہے لیکن اس سے اہم انسانی کی اخلاقی خوبیاں ہیں۔
خاص طور پر صبر اور شکر کی بہت اہمیت ہے۔
(4)
جس عورت کے دل میں ایمان ہوگا، وہ خود بھی آخرت کو سامنے رکھے گی اور خاوند کو نیکی کی راہ پر چلنے میں مدد دے گی، اس لیے ایسی نیک عورت اللہ کی بڑی نعمت ہے۔
مسلمان مرد کو ایسی عورت کی قدر کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1856 سے ماخوذ ہے۔