حدیث نمبر: 1108
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْوَزِيرِ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الآدَمَيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "عُرِضَتْ عَلَيَّ أُجُورُ أُمَّتِي حَتَّى الْقَذَاةُ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوبُ أُمَّتِي ، فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ آيَةٍ أَوْ سُورَةٍ أُوتِيهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، إِلا عَبْدُ الْمَجِيدِ ، تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ وَرَوَاهُ غَيْرُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ عَنْ أَنَسٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر میری امت کے اجر و ثواب پیش کیے گئے، یہاں تک وہ تنکا بھی جسے کوئی آدمی مسجد سے باہر نکال ڈالتا ہے، اور مجھ پر میری امت کے گناہ پیش کیے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کوئی شخص کوئی آیت یا سورت دیا گیا ہو پھر اس نے اسے بھلا دیا ہو۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب التفسير و فضائل القرآن / حدیث: 1108
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1297، وأبو داود فى «سننه» برقم: 461، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2916، قال الشيخ الألباني: ضعيف ، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 4381، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 4265، والبزار فى «مسنده» برقم: 6219، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5977، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 6489، والطبراني فى «الصغير» برقم: 547 ¤قال الدارقطنی: والحديث غير ثابت ، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (12 / 170)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2916 | سنن ابي داود: 461 | بلوغ المرام: 208

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2916 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے نیک اعمال کے اجر و ثواب میرے سامنے پیش کیے گئے یہاں تک کہ اس تنکے کا ثواب بھی پیش کیا گیا جسے آدمی مسجد سے نکال کر پھینک دیتا ہے۔ اور مجھ پر میری امت کے گناہ (بھی) پیش کیے گئے تو میں نے کوئی گناہ اس سے بڑھ کر نہیں دیکھا کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورۃ یا کوئی آیت یاد ہو اور اس نے اسے بھلا دیا ہو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2916]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں مطلب اور ابن جریج دونوں مدلس راوی ہیں اور عنعنہ سے روایت ہے، نیز دونوں (مطلب اور انس) کے درمیان سند میں انقطاع بھی ہے، ملاحظہ ہو ضعیف أبی داؤد: 1/ 164)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2916 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 461 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مسجد میں جھاڑو دینے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر میری امت کے ثواب پیش کئے گئے یہاں تک کہ وہ تنکا بھی جسے آدمی مسجد سے نکالتا ہے، اور مجھ پر میری امت کے گناہ پیش کئے گئے تو میں نے دیکھا کہ اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورت یا آیت یاد ہو پھر وہ اسے بھلا دے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 461]
461۔ اردو حاشیہ:
➊ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس روایت کو غریب مگر امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ علامہ خطابی رحمہ اللہ ناقل ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر کہتے ہیں مطلب بن عبداللہ کو کسی صحابی سے سماع نہیں ہے۔ نیز عبدالمجید بن عبدالعزیز پر بھی کلام ہے، بہرحال دوسری صحیح روایات سے مسجد کی صفائی ستھرائی کی فضیلت ثابت ہے۔ جیسے کہ ایک صحابیہ نے مسجد کی صفائی کو اپنا معمول بنایا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر جا کر اس کا جنازہ پڑھا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث: 458]
➋ اسی طرح قرآن مجید یاد کر کے بھلا دینا بھی مہجوری کی ذیل میں آ سکتا ہے، اس لیے یہ بھی قابل گرفت ہو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 461 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 208 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´مساجد کا بیان`
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر میری امت کے (اعمال کے) ثواب پیش کیے گئے، یہاں تک کہ اس تنکے کا ثواب بھی ان میں شامل تھا، جسے آدمی مسجد سے نکال کر باہر پھینکتا ہے۔
اس حدیث کو ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے غریب کہا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 208]
208 لغوی تشریح: «عُرِضَتْ» صیغہ غائب مجمول ہے۔ ظاہر کئے گئے، سامنے لائے گئے۔
«أُجُورُ أُمَّتِي» یہ «عُرِضَتْ» کا نائب فاعل ہے۔ میری امت کے نامہ اعمال۔
«عَلَيَّ» یا پر تشدید ہے۔ حرف «جرعلى» کی یا کو یائے متکلم میں مدغم کر دیا گیا ہے۔
«اَلْقَذَاةُ» قاف پر فتحہ اور ذال مخفف ہے۔ تنکا وغیرہ، جو مشرو ب میں گر جاتا ہے یا آنکھ میں پڑ جاتا ہے یا گھروں کے اندر عموماً پڑا ہوتا ہے۔
«وَاسْتَغْرَبَهُ» اسے غریب کہا ہے۔

فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ معمولی سے معمولی کام بھی اجر و ثواب سے خالی نہیں۔
➋ مساجد کی صفائی اور پاکیزگی کی اسلام نے بہت تاکید کی ہے۔ تنکا بھی مسجد میں رہنے نہ دیا جائے۔ جو شخص اتنا سا معمولی کام کرتا ہے (تنکا اٹھا کر باہر پھینک دیتا ہے) تو اس پر بھی اسے ضرور اجر ملے گا۔
➌ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس کو غریب اس وجہ سے کہا ہے کہ اس کی سند میں مطلب بن عبداللہ راوی ہے جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے روایت کرتا ہے، حالانکہ مطلب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ بلکہ کسی بھی صحابی سے سماع نہیں کیا۔ بہرحال دوسری صحیح روایات سے مسجد کی صفائی ستھرائی کی فضیلت ثابت ہے جیسے کہ ایک صحابیہ نے مسجد کی صفائی کو اپنا معمول بنایا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر جا کر اس کا جنازہ پڑھا تھا۔ [صحيح بخاري/الصلاة: ح 458]
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 208 سے ماخوذ ہے۔