معجم صغير للطبراني
كتاب الشفاعة— شفاعت کا بیان
باب: روزِ قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ هَارُونَ الْحَلَبِيُّ الْمِصِّيصِيُّ ، بِالْمَصِّيصَةِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيُّ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَسْلَمَ الْعَدَوِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنِ ابْنِ بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَاسْتَيْقَظْنَا وَلَيْسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : نَطْلُبُهُ ، فَإِنَّا عَلَى ذَلِكَ إِذْ سَمِعْنَا صَوْتًا كَهَدِيرِ الرَّحَا ، فَأَتَيْنَا الصَّوْتَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " تَقُومُ مِنْ فِرَاشِكِ وَنَحْنُ حَوْلَكَ وَلا تُوقِظُ أَحَدًا مِنَّا وَنَحْنُ بِأَرْضِ الْعَدُوِّ ، فَقَالَ : إِنَّهُ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَخَيَّرْنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ أَوِ الشَّفَاعَةِ ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْ أَهْلِ الشَّفَاعَةِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْ أَهْلِهَا ، ثُمَّ قَالَ آخَرُ ، فَقَالَ آخَرُ ، ثُمَّ قَالَ آخَرُ ، فَلَمَّا كَثُرُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : شَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يُونُسَ ، إِلا سَهْلٌسیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں تھے، تو جب ہم بیدار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے، ہم انہیں تلاش کرنے لگے، ہم اسی حال میں تھے کہ ہم نے چکی رگڑنے کی آواز سنی تو ہم اس آواز کے پاس چلے گئے، وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے تو ہم نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اپنے بستر سے اٹھتے ہیں اور ہم بھی آپ کے آس پاس ہوتے ہیں، پھر آپ ہم میں سے کسی کو بیدار بھی نہیں کرتے، حالانکہ ہم دشمن کی سرزمین میں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پیغام لانے والا آیا، پھر اس نے مجھے دو باتوں میں اختیار دیا، یا تو میری نصف امت کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کر دے یا سفارش کا موقع عطا فرمائے گا۔ تو میں نے سفارش کو پسند کر لیا۔“ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے بھی سفارش والوں میں کر دے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! ابوموسیٰ کو بھی سفارش والوں میں داخل فرما دے۔“ پھر ایک اور کہنے لگے: میرے لیے بھی دعا کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوسرا بھی اسی طرح ہے۔“ پھر ایک اور نے کہا، تو جب زیادہ لوگ ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری سفارش ہر اس شخص کے لیے ہو گی جو لا إله إلا الله اور محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت دیتا ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے اختیار دیا گیا کہ شفاعت اور آدھی امت کے جنت میں داخل ہونے میں سے ایک چیز چن لوں، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا، کیونکہ وہ عام ہو گی اور کافی ہو گی، کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ شفاعت متقیوں کے لیے ہے؟ نہیں، بلکہ یہ ایسے گناہگاروں کے لیے ہے جو غلطی کرنے والے اور گناہوں سے آلودہ ہوں گے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4311]
فوائد ومسائل: (1)
نبیﷺ اپنی امت کے انتہائی خیر خواہ تھے۔
اس لیے امت کے لوگوں کا بھی فرض ہے کہ وہ نبیﷺ سے محبت رکھیں انکے احکام کی تعمیل کریں۔
ان کے اسوہ کی پیروی کریں ان پہ درود پڑھیں اور انکے صحابہ کرام سے محبت کریں احترام کریں۔
(2)
آدھی امت کے بجائے شفاعت میں امید ہے زیادہ لوگوں کی مغفرت ہو جائے اس لیے آپﷺ نے اسے منتخیب فرمایا۔
(3)
نبیﷺ کی شفاعت اللہ کے اذن کے تابع ہےاس لیے اللہ ہی سے دعا کرنی چاییے۔
کہ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جن کے حق میں شفاعت کی اجازت نبیﷺ کو حاصل ہوگی۔