حدیث نمبر: 1088
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُفَرِّجٍ الْبَلَدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صُهْبَانَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنْ يَكُنْ شَيْءٌ يُطْلَبُ بِهِ الدَّوَاءُ ، وَيَنْفَعُ مِنَ الدَّاءِ ، فَإِنَّ الْحِجَامَةَ تَنْفَعُ مِنَ الدَّاءِ ، فَاحْتَجِمُوا فِي سَبْعَ عَشْرَةَ ، أَوْ تِسْعَ عَشْرَةَ ، أَوْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ صَفْوَانَ ، إِلا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَلا عَنْ عُمَرَ ، إِلا عُمَرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی چیز سے علاج چاہا جاتا ہو اور بیماری کے لیے وہ نفع مند ہو تو وہ سینگی لگانا ہے، جو بیماری سے نفع دیتی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3861 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کب پچھنا لگوانا مستحب ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگوائے تو اسے ہر بیماری سے شفاء ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3861]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگوائے تو اسے ہر بیماری سے شفاء ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3861]
فوائد ومسائل:
ان تاریخوں کا فائدہ امر غیب سے ہے۔
ہم اس کی کوئی تو جیح نہیں کرسکتے۔
اس پر ایمان رکھنا واجب ہے۔
ان تواریخ کا اہتمام کرنا مستحب ہے اور قدیم اطباء کا بھی اجماع ہے کہ دوسرا نصف پہلے کی نسبت بہتر ہے۔
ان تاریخوں کا فائدہ امر غیب سے ہے۔
ہم اس کی کوئی تو جیح نہیں کرسکتے۔
اس پر ایمان رکھنا واجب ہے۔
ان تواریخ کا اہتمام کرنا مستحب ہے اور قدیم اطباء کا بھی اجماع ہے کہ دوسرا نصف پہلے کی نسبت بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3861 سے ماخوذ ہے۔